پولن الرجی اورآپ


بہار آگئی ہے پر یو لگتا ہے برسات آگئی ہے۔ کبھی بہار میں اتنی بارشیں نہیں دیکھی تھی جتنی گزشتہ چند سالوں میں ہوئی ہیں۔ یہ سب موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہے۔بہار میں  جب پھول کھلتے ہیں، ان پھولوں کو دیکھ کر لوگ بھی کھل جاتے ہیں۔ پر یہ کیا  اب اسلام آباد میں بہار کے آتے ہی پولن الرجی کا خوف بھی آجاتا ہے۔ بعض افراد اس الرجی سے بہت متاثر ہیں۔ پولن الرجی کے متاثرین  کی موسم بہار کے آغاز سے ہی ان کی صحت خراب رہنے لگتی ہے اور پھر ایک دو ماہ تک معاملات زندگی بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔

پولن الرجی کیا ہے ؟ اس کے ہونے کی وجوہات کیا ہے؟

پولن انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پھول کا ریزہ یا زرِگل بھی لیا جاتا ہے جو چھوٹے چھوٹے ذرات ہوتے ہیں جو پھولوں کے اندر پائے جاتے ہیں۔یہ ذرات پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔

موسم بہار کی آمدکے ساتھ مختلف درختوں پر اگتا ہے۔جیسے جیسے پولن والے پھول نکلتے ہیں، ہلکی پھلکی ہوا لگنے کے ساتھ ہی انکا پاوڈر نما بورہوا کے ذریعے فضا میں پھیل جاتا ہے ۔

طبی ماہرین کے مطابق درخت اور جھاڑیاں اور گھاس کا پولن ہوا میں جاتا ہے اور نرپودے سے مادہ اس کی ٹرانسمیشن ہوتی ہے۔ کچھ پولن ایسے ہوتے ہیں جن میں الرجی پیدا کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اور یہ ایک ہی وقت میں اربوں کروڑوں کی تعداد میں ہوا میں چھوڑے جاتے ہیں تاکہ میل سے فی میل یہ جا سکیں۔ یہی  پولن جب حساس انسانوں کی سانس کی نالی میں جاتے ہیں تو ان کی الرجی کے عمل میں ناک بہنا شروع ہوتی ہے، ناک میں خارش ہوتی ہے اور چھینکے آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چہرے پر اور آنکھوں میں خارش ، آنکھوں میں سرخی اور جب ناک کا ریشہ زیادہ ہو کر گلے میں گرتا ہے اور گلے میں خراش شروع ہو جاتی ہے اس الرجی کے ساتھ پولن کی علامات نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ لیکن یہ عمل جب اس الرجی کی وجہ سے زیادہ ہو جاتا ہے تو سانس کی نالی میں گھوٹن محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے جسے پولن دمہ کہا جاتا ہے۔

ایک عام تاثر یہ پاتا جاتا ہے کہ اسلام آباد میں جنگلی شہتوت کے درخت پولن کے باعث ہوا میں پولن شامل ہوتا ہے۔ جنگلی شہتوت کو پولن الرجی کا بنیادی سبب سمجھتے ہوئے اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے  نے 2010 میں آہستہ آہستہ ان جنگلی درختوں اور گھاس جھاڑیوں کی تلفی کا عمل شروع کیا۔  

جنگلی شہتوت کے علاوہ الرجی پیدا کرنے والے  پودے

پودے                                    ۔۔۔موسم

جنگلی شہتوت۔۔۔                                موسم بہار  تا   موسم گرما

سفیدہ                                      ۔۔۔   موسم بہار  تا  موسم خزاں

بھنگ                                       ۔۔۔موسم گرما  تا   اوئل خزاں

کیکر پھلائی                             ۔۔۔               موسم گرما

بوتل برش                                      ۔۔۔موسم گرما

سوج مکھی۔۔۔                                           موسم گرما  تا  موسم خزاں

چیڑ                                             ۔۔۔موسم گرما

سنتھا             ۔۔۔                         موسم بہار  تا   موسم گرما

جوار اور مکئی۔۔۔                         موسم گرما اور  اوائل

عام گھاس۔۔۔                             موسم بہار  تا   درمیان سرما

گلاب کی اقسام                                    ۔۔۔بہار تا خزاں

شیشم                                                   ۔۔۔موسم گرما

باجرہ                                                        ۔۔۔موسم گرما

طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان درختوں کو تلف کرنا ہی صرف مسلئے کا حل نہیں کیونکہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پولن الرجی صرف انہی درختوں اور جھاڑیوں  کی وجہ سے ہے ان کا سبب اور پودے بھی ہو سکتے ہیں۔

ہم نے ہمیشہ یہی پڑھا اور سنا کہ  درخت انسان  کے دوست اور ماحول کے  محافظ ہیں۔ لیکن ہماری غلطیوں کی وجہ سے یہی ہمارے مخالف ہوتے جارہے ہیں۔ پولن الرجی کی ایک بڑی وجہ غیر ملکی/ غیر علاقائی پودے ہیں۔ سائنسی ماہرین کے مطابق یہ وہ پودے ہیں جو مختلف مقاصد کے لیے کسی ایک خطے سے دوسرے خطے میں لے جاکر لگائے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق پودوں پر مختلف آب و ہوا کے مختلف اثرات پڑتے ہیں مثال کے طورپرجس پودے کو امریکا کی زمین اور آب و ہوا موافق ہو اسے کسی دوسرے خطے میں منتقل کیے جانے سے اس پودے کانئے ماحول کے ساتھ” کراس ری ایکشن “ہوسکتا ہے۔ دنیا میں ایسی سینکڑوں مثالیں پائی جاتی ہیں کہ بظاہر معصوم نظر آنے والے پودے کو کسی نئے خطہ میں منتقل کرنے پر وہاں کے انسانوںاور پودوں کے لیے غارت گر بن گئیں۔ پاکستان میں متعدد جگہوں پر ایسے درخت جابجا نظر آتے ہیں جنہیں ماحول اور نوع انسانی پر پڑنے والے اثرات کو بلا سوچے سمجھے یہاں لگادیا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں غیر ملکی پودوں کا باقاعدہ ریکارڈ دستیاب نہیں لیکن ایک اندازہ کے مطابق یہاں 700 سے زائد بدیسی پودوں کی اقسام موجود ہیں۔ اسلام آباد کو سرسبز بنانے کی غرض سے اس علاقہ میں گل توت لگایا گیا۔ پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل کے مطابق اس خطہ میں الرجی میں مبتلا ہونے والے 45 فیصد افراد گل توت سے ہی متاثر ہوتے ہیں۔آپ کو یہ جان کر یقیناً حیرت ہوگی کہ کیکرمقامی درخت نہیں ہے بلکہ اس کا آبائی وطن ویسٹ انڈیز اور میکسکو ہے۔پاکستان میں بغیر کسی تحقیق اور منصوبے کے اس کا فضائی چھڑکاو کیا گیا جس کی وجہ سے ببول، شیشم اور کئی مقامی جڑی بوٹیوں بری طرح متاثر ہوئے۔اسی طرح جنوبی امریکہ سے درآمد شدہ واٹر فرن اور گل بکائوی ، کراچی اور بہاولپور میں لگایا گیا افریقہ کا کونو کارپس، یوکلپٹس اور چائنا پاپولر نے موحول میں تباہی مچائی۔

ماہرین کے مطابق سفیدہ کا درخت چوبیس گھنٹوں میں ساڑھے سترہ لٹر پانی جذب کر کے فضا میں چھوڑتا ہے جس کی وجہ سے فضا میں نمی کی مقدار میں اضافہ ہورہا ہے۔نمی کی بڑھتی ہوئی مقدار انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہونے کے علاوہ فصلوں پر کیڑے مکوڑوں کے حملے کا بھی باعث بن رہی ہے۔ غیر مقامی پودوں کے نباتاتی حملہ کا مسئلہ 1950ء میں ہی سائنسدانوں نے محسوس کرلیا تھا لیکن اس کے بارے میں زیادہ آگہی اب ہورہی ہے۔ ماہرین نباتات یہ دلچسپ اور حیرت انگیز انکشاف کرتے ہیں کہ اگرچہ پودوں کے دماغ اور اعصابی خلیات نہیں ہوتے لیکن بعض اقسام کے پودے اپنی حدود ملکیت میں کسی کی دخل اندازی برداشت نہیں کرتے یعنی اس سلسلے میں باقاعدہ خود غرض ہوتے ہیں۔جب غیر ملکی پودے کسی اور جگہ کاشت کیے جاتے ہیں تو اکثر ناموافق آب و ہوا اور آپس کے مزاج میں مماثلت نہ ہونے کے سبب تصادم کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا کسی دوسرے خطے کی نباتات کو اپنے ہاں متعارف کرانے سے پہلے اس پر تجربات کیے جانے چاہئیں اور ان کے نقصانات اور فوائد کا تجزیہ کیا جانا چاہیے اگر فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہوں تو پھر ان نباتاتی انواع کو اپنے ملک میں اگانے سے گریز کرناچاہیے۔

اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیاں نے  ان انسان اور ماحول مخالف  درختوں سے بھری پڑی ہیں سب کو تلف کرنا بھی ناگزیر ہے۔ تاہم اس کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں میں پولن سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر سے متعلق آگاہی میں اضافہ کیا جائے۔ اور سب مل کر سائنٹیفک طریقے سے اس مسلئے کا حل نکالیں تو یہ ہوسکتا ہے۔

احتیاطی تدابیر

ڈاکٹرز  کے مطابق ۔

  • جن حضرات کو پولن الرجی ہوتی ہے وہ گیلا کپڑا کرکے ناک اور منہ کو ڈھانپ کر رکھیں۔

  • جب بھی گھر سے باہر جائیں زیتون کا تیل یا ویزلین ناک کے اندر اچھی طرح لگائیں تا کہ وہ ذرات سانس کی نالیوں میں جا کر چپک ہی نہ سکیں حتی کہ یہ فلو وائرس، سوائن فلو یا انفلونزا وائرس بھی ویزلین اور زیتون کا تیل ناک میں لگانے سے اتنا جلدی اثر نہیں کرئے گا۔

  • پولن کے موسم میں الرجی کے مریض بلا وجہ باغات، جنگلات یا زیادہ درختوں والی جگہ پر جانے سے پرہیز کریں۔

  •  گھر میں غیر ضروری پودے نہ لگائیں خاص طور پر سفیدہ، جنگلی شہتوت ، سنتھا کی باڑ نہ اگائیں۔

  • پولن کے موسم میں گھر کی کھڑکیاں بند رکھیں۔

  •  فلٹر ماسک کا استعمال کریں جو دھواں، دھول اور گیس سے بچائے۔

  •  سفر کے دوران گاڑی کے شیشے بند رکھیں۔

  •  الرجی کے مریض پالتو جانوروں مثلا بلی، کتا، خرگوش اور پرندوں وغیرہ کے قریب جانے جائیں۔

  • پولن کے موسم میں چشمہ استعمال کریں اور کانٹیکٹ لینز سے اجتناب کریں کیونکہ پولن کے ذرات لینز کے نیچے پھنس کر الرجی یا انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں۔

  •  گھر میں قالین کم سے کم بچھائیں۔

  •  پروں یا فر والے تکیے اور غلاف استعمال نہ کریں۔

  •  کپڑے بہت زیادہ دیر باہر نہ لٹکائیں۔ کیونکہ ان پر پولن  اور دحول کے زرات بیٹھ سکتے ہیں جو الرجی کا سبب بنتے ہیں۔

  • اگر آپ باہر سے گھر میں داخل ہوئے ہوں تو کپڑے بدل لیں اور نہالیں  تاکہ پولن کی گردو غبار ہٹ جائے۔

  • اپنا  موٹاپا کم کریں  کیونکہ اگر آپ دمہ کے مریض  ہیں تو  آپ کے دمے کا کنٹرول مشکل ہو سکتا ہے۔

  • پولن  کے موسم میں چشمے استعمال  کریں  اور کانٹکٹ لینز سے اجتناب کریں۔

  •  الرجی سے بچاؤ کے لئے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مخصوص ٹیسٹ کے بعد ویکسین لگوائیں۔

  • معالج کے مشورے سے وٹامن ڈی،سی، بی  اورکلشیم کی گولی سی اے سی پلس 1000 کا استعمال کریں۔ متاثرین کو اس  گولی کو پانی میں گھول کر پینے سے کافی آرام محسوس ہوا ہے۔

پاکستان میں دیگر کئی اقدامات کے ساتھ ساتھ ہر علاقے میں ماحول موافق اور ماحول دوست درخت اور پودے لگانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے کسی بھی علاقے میں یا کسی بھی شہر میں درخت یا پودے لگاتے ہوئے اس علاقے یا شہر کے فطری ماحول کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ زرعی ماہرین کی نگرانی میں ایک ٹیم تشکیل دی جائے جس کی زیر نگرانی ماحول دشمن پودوں کی جگہ مقامی آب و ہوا کے مطابق شجر کاری کی جائے۔ یہ نظام اتنا مربوط اور منظم ہونا چاہیے کہ غیر مقامی پودوں کی کہیں بھی شجرکاری کرنے سے پہلے اس کا مقامی ماحول کے مطابق جائزہ لیا جائے اور ماہرین کی تصدیق کے بعد ہی شجرکاری کی جائے۔ انسان دوست پودے ہماری زندگیوں میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں،ان پودوں کی مدد سے ہم اپنی ضروریات زندگی کے ساتھ ساتھ صحت مند معاشرہ کے لئے بھی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

 

آئی ڈی : 2020/03/19/6542

Leave A Reply

Your email address will not be published.