بھارت: نربھیا زیادتی کیس کے چاروں ملزمان کو پھانسی دے دی گئی

Nirbhaya Case-Accused-Delhi-India

نئی دہلی: بھارت میں سماجی سطح پر ہل چل مچانے  والے مشہور زمانہ نربھیا زیادتی کیس کے ملزمان کوبالآخر  7 سال بعد پھانسی دے دی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ملزمان اکشے ٹھاکر، وِنے شرما، پون گپتا اور مکیش سنگھ کو ٹرائل کورٹ نے 2013 میں پھانسی کی سزا سنائی تھی جنہیں بالآخر سات سال کے طویل عرصے کے بعد نئی دہلی میں پھانسی دی گئی۔

برطانوی نشریاتی ادارے کا بتانا ہےکہ بھارت میں 2015 کے بعد یہ کسی بھی کیس میں ملزمان کو پھانسی دی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ملزمان کو صبح ساڑھے پانچ بجے پھانسی دی گئی اور اس موقع پر نئی دہلی میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے جب کہ تہاڑ جیل کو پوری طرح لاک ڈاؤن کردیا گیا تھا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پھانسی سے چند گھنٹے قبل ملزمان کے وکیل نے نئی دہلی کی ہائیکورٹ میں ایک اپیل بھی دائر کی جس میں کورونا وائرس کی وجہ سے تمام دستاویزات جلدی میں جمع کرانے کا حوالہ دیا گیا۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی سے قبل ملزمان کو الگ سیل میں رکھ دیا گیا تھا جہاں انہوں نے کھانا کھانے اور آخری خواہش بتانے سے بھی انکار کردیا۔

ملزمان کی پھانسی کے بعد زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ ہم نے اس دن کے لیے طویل انتظار کیا۔ آج بھارت کی بیٹیوں کے لیے ایک نئی صبح طلوع ہوئی ہے۔ اب ہم اپنے گھر میں نربھیا کی تصویر آویزاں کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی 2012 میں میڈیکل کی 23 سالہ طالبہ سے اجتماعی زیادتی کا واقعہ میں پیش آیا۔ جس میں ملزمان نے لڑکی سے چلتی بس میں زیادتی کی تھی اور پھر اُسے قتل کردیا تھا۔اس  واقعے کے بعد پورے بھارت میں شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔

 

آئی ڈی: 2020/03/20/6603

متعلقہ خبریں

Leave a Comment