موسم گرما کے کورونا وائرس پر اثرات

عالمی ادارہ صحت اور مختلف طبی ماہرین کے مطابق ابھی اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کورونا وائرس پر گرم درجہ حرارت کے کیا اثرات ہوں گے۔

تاہم چین میں ہونے والے ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گرم موسم وائرس کی لوگوں کو بیمار کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتا ہے۔

بیجنگ سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں کی تحقیق میں عندیہ دیا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری اضافہ اور نمی کی شرح بڑھنے سے کورونا وائرس کے مرض کووڈ 19 کی پھیلنے کی طاقت میں کمی آئے گی۔

 نئے کورونا وائرس جیسے وبائی امراض کے پھیلنے یا متعدی ہونے کی طاقت کے لیے ماہرین کی جانب سے ایک اصطلاح آر0 یا ناٹ کو استعمال کیا جاتا ہے۔

آر ناٹ نامی اصطلاح سے مراد یہ ہے کہ کسی وبا کے عروج کے دوران ایک مریض مزید کتنے افراد کو بیمار کرسکتا ہے اور اس پیشگوئی کی جاسکتی ہے کہ یہ وبا کس حد تک تیزی سے پھیل سکتی ہے۔

فلو کے لیے آرناٹ کی قدر 1.3 ہے جبکہ نئے کورونا وائرس کا ایک مریض اوسطاً 2 سے 2.5 افراد کو متاثر کرسکتا ہے۔

تاہم یہ قدر فکس نہیں ہوتی بلکہ مختلف عناصر جیسے لوگ ایک دوسرے کے کتنے قریب رہے ہیں اور موسم کیسا ہے، سے بدلتی رہتی ہے۔

اس نئی تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ موسم اور کووڈ 19 کے پھیلائو کے درمیان تعلق کو سمجھنا اس کی شدت اور وبا کے اختتام کی پیشگوئی میں کنجی ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ درجہ حرارت میں ہر ایک سینٹی گریڈ اضافے اور ہوا میں نمی کی سطح میں ایک فیصد اضافہ کورونا وائرس کی آر ناٹ ویلیو کو بالترتیب 0.04 اور 0.02 تک گرا سکتا ہے۔

محققین نے 21 سے 23 جنوری کے دوران سو چینی شہروں میں 40 سے زائد کیسز کے ڈیٹا پر وائرس کے آر او ویلیو کا تخمینہ لگایا اور جائزہ لیا کہ مختلف موسم میں وائرس کے پھیلنے کی رفتار پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ یہ ویلیو شمالی نصف کرے میں 2.5 تھی جو کہ جنوبی نصف کرے کے متعدد مقامات کے مقابلے میں دوگنا زیادہ تھی جہاں اس وقت موسم گرم ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زیادہ درجہ حرارت اور ہوا میں زیادہ نمی سے کووڈ19 کے پھیلنے کی رفتار میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔

اس کی ممکنہ وجہ یہ ہے کہ بیشر کورونا وائرسز میں ایک چربی کی تہہ وائرل ذرات ہوا کے ذریعے ایک سے دوسرے فرد تک کے سفر کے دوران تحفظ فراہم کرتی ہے، مگر گرم درجہ حرارت میں وہ تہہ جلد خشک ہوجاتی ہے، جس سے وائرس کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔

تحقیق کے دوران محققین نے کورونا وائرس کی وبا کا زیادہ شکار ہونے والے دیگر ممالک جیسے اٹلی، آسٹریلیا، تھائی لینڈ اور امریکا میں 8 سے 29 فروری کے دوران روزانہ کیسز کی اوسط تعداد کا جائزہ بھی لیا۔

انہوں نے دریافت کیا کہ اس دورانیے کے دوران ایسے مقامات جیسے اٹلی جہاں درجہ حرارت 9 ڈگری سینٹی گریڈ کے آس پاس تھا، وہاں نئے کیسز کی تعداد دیگر مقامات جیسے تھائی لینڈ کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ ریکارڈ ہوئی، جہاں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب تھا۔

ایسا ہی ہوا میں نمی کے ساتھ بھی ہوتا ہے، یعنی جتنی زیادہ نمی ہوگی، نئے کیسز کی تعداد اتنی ہی کم ہوگی۔

ہوا میں زیادہ نمی کے نتیجے میں حبس بڑھتا ہے اور پسینے کا اخراج زیادہ ہونے لگتا ہے جس سے ہوا میں بخارات کی موجودگی کا امکان کم ہوجاتا ہے، جبکہ وائرس والے ذرات کے لیے ہوا میں زندہ رہنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج کس حد تک درست ہیں، یہ تو آنے والے ہفتوں میں معلوم ہوجائے گا مگر اب بھی ایسے ممالک جہاں موسم گرم ہے وہاں بھی یہ وائرس موجود ہے جیسے آسٹریلیا میں اس وقت اوسط درجہ حرارت 24 سینٹی گریڈ کے قریب ہے مگر وہاں اب تک 709 افراد میں اس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

یعنی اس نئے وائرس کے بارے میں ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے اور دیکھنا ہوگا کہ یہ ایشیا اور دیگر ممالک میں موسم گرما کی آمد پر کس طرح کے رویے کا مظاہر کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment