احتیاط علاج سے بہتر ہے!

لاریب اشتیاق


عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیئے جو ہدایات اور تدابیر جاری کی ہیں ان کے مطابق ہر دس سیکنڈ کے بعد صابن سے ہاتھ دھوئیں یا ہینڈ سینیٹائیزر کا استعمال کریں، لوگوں سے دوری اختیار کریں اور فاصلہ رکھ کر بات کریں، رش والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں یعنی بلا مقصد باہر جا نے سے گریز کریں،  کھانسی اور چھینکتے وقت منہ کو ڈھانپیں، منہ پر ماسک پہنیں، وٹامن سی کا زیادہ استعمال کریں اور منہ پر بغیر ضرورت ہاتھ نہیں ماریں۔

ابھی تک تو اسکا علاج دریافت نہیں ہوا، اسکی احتیاطی تدابیر پر ہی زور دیا جا رہا ہے۔ لوگ خوف زدہ ہیں کہ کہیں وہ بھی اس بیماری کا شکار نہ ہو جائیں ۔ ایسی کئی بیماریاں، جیسے کہ ایڈز اور کینسر ، آئیں کہ جن کا عرصے تک علاج نہیں تھا۔کہا جاتا ہے کہ جس کو کینسرکی تیسری یا چوتھی سٹیج یا ایڈز ہو اسکی بحالی مشکل ہو جاتی ہے۔ بات یہ نہیں کہ کیوں جن بیماریوں کا علاج نہیں صرف انکی ہی احتیاطی تدابیر پر زور دیا جاتا ہے؟ بات یہ ہے کہ جن بیماریوں کا علاج ہے انکی احتیاطی تدابیر پر بھی کیوں نہیں زور دیا جاتا؟ ہم بیماری یا کوئی بھی مشکل کا علاج ڈھونڈنے سے پہلے اس سے بچنے کے لیئے کیوں نہیں سوچتے؟ مثلا ہیپاٹائٹس سی کا علاج بھی ہے اور اسکے ہونے کی بڑی وجہ گندگی، جراثیم، آلودہ پانی پینا ہے۔ لوگ بازاروں میں جا کر ریڑھیوں سے گندے گلاسوں میں جوس دھڑا دھڑ پی لیتے ہیں۔ کیوں نہیں سوچتے کہ جس گلاس میں یہ پی رہے ہیں وہ دھویا ہے بھی یا نہیں؟۔اگر دھویا ہے بھی تو دھونے کے لیے کس پانی کا استعمال کیا گیا ہے؟۔ یاجو جوس پیا ہے اسکا معیار کیسا ہے؟ شاید ندی، نالیوں کا پانی استعمال کیا جاتا ہو ۔ ان کے بنانے والوں کو بھی خدا کا خوف نہیں انکو بس منافع سے تعلق ہے۔

ہیپاٹائٹس سی زیادہ غریب عوام اور مزدوروں میں پھیل رہا ہے۔’’احتیاط علاج سے بہتر ہے۔‘‘  یہ ایک جملہ ہے اس پر عمل درآمد کر کے ہم بہت سی بڑی بیماریوں سے بچ سکتے ہیں۔ اگر چین کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے یہ اقدامات ماسک پہننے کا ، صفائی کا خیال، گھر میں رہنے کی ہدایات نہ دیتا تو کچھ ہی ہفتوں میں چین کے لوگوں کا نام و نشان نہ رہتا۔

ہمیں چاہیئے کہ ہر بیماری سے بچاؤ کے لیئے اسکی احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کریں تا کہ بیماریاں زیادہ نہ پھیلیں۔ حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ سکولوں سے لے کر یونیورسیٹیوں کی سطح تک نصاب میں ایسے باب شامل کریں کہ جنہیں پڑھ کر نسلیں خود کو اور معاشرے کو ان مسائل سے دور رکھنے کے لیئے تیار رہ سکیں ۔اگر بیماری سے بچاؤ کے لیئے احتیاطی تدابیر نہیں بتائی جائیں گی تو ملک میں ہسپتال کم اور مریضوں کی تعداد زیادہ ہو جائے گی۔

Laraib

 

 

آئی ڈی: 2020/03/24/6898

Leave A Reply

Your email address will not be published.