کورونا وائرس سے اولمپکس شیڈول متاثر


ٹوکیو: کورونا وائرس اولمپک مشعل بھی بجھانے پر تل گیا ہے۔ کینیڈا اور آسٹریلیا نے  رواں برس ایونٹ میں اپنے ایتھلیٹس کو بھیجنے سے صاف انکار کر دیا۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی پر رواں برس 24 جولائی سے 9 اگست تک مسلسل دباو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ٹوکیو میں شیڈول اولمپکس گیمز کو ملتوی کرے۔ جلد ہی اس کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا۔  کورونا وائرس دیگر کھیلوں کی طرح اولمپکس شیڈول کو بھی بری طرح متاثر کر رہا ہے۔

کینیڈا اور آسٹریلیا نے واضح طور پر اپنے ایتھلیٹس رواں برس گیمز کیلیے بھیجنے سے انکار کردیا۔ کینیڈین اولمپک اور پیرالمپک کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ‘‘ہم نے فوری طور پر انٹرنیشنل اولمپک و پیرالمپک کمیٹی اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ گیمز کو ایک برس کیلیے ملتوی کیا جائے۔ ہم اولمپکس کو ری شیڈول کرنے میں اپنی پوری معاونت فراہم کریں گے۔ دنیا اس وقت ایک صحت کے عالمی بحران کے وسط میں موجود ہے جوکھیلوں سے زیادہ اہم ہیں’’۔

دوسری جانب آسٹریلین اولمپک کمیٹی نے بھی زو دیا ہے کہ ہمارے ایتھلیٹس ری شیڈول کی جانے والی ٹوکیو گیمز کی تیاری کرے۔ انہوں نے کہا اے او سی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ہمارے ایتھلیٹس کو فی الحال اپنی اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کی صحت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انھیں اپنی فیملیز کے پاس واپس بھیجنے کیلیے متعلقہ فیڈریشنز کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

برازیل اور سلوانیہ کی نیشنل اولمپک کمیٹیز نے بھی 2021 تک گیمز کو ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے،ناروے کی نیشنل باڈی نے واضح کیاکہ جب تک صحت کا موجودہ بحران قابو میں نہیں آتا وہ اپنے ایتھلیٹس ٹوکیو نہیں بھیج سکتے۔ دیگر ممالک کی مختلف اسپورٹس فیڈریشنز بھی ایونٹ کو ایک برس کیلیے ملتوی کرنے کے حق میں ہیں۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر تھومس باخ پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ گیمز کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلیے ممبرز سے بات چیت کا عمل شروع کیا جا چکا ہے۔ البتہ انھوں نے اپنے تازہ انٹرویو میں واضح کیاکہ یہ معاملہ کافی پیچیدہ اور بہت سی چیزوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

دوسری جانب ٹوکیو 2020 کی مقامی کمیٹی کے سربراہ توشیرو موٹو نے کہاکہ ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاہم فی الحال ہمارا پروگرام شیڈول کے تحت جاری رہے گا۔ اولمپک ٹارچ ریلے کا جمعرات کو فوکوشیما سے آغاز ہوگا۔

 

آئی ڈی: 2020/03/24/6790

Leave A Reply

Your email address will not be published.