افغانستان میں سکھوں کی عبادت گاہ میں خودکش دھماکہ

افغانستان میں سکھوں کی مزہبی عبادت گاہ میں خودکش دھماکہ ہوا ہے، جس میں کئی افراد کے مرنے کی اطلاعات ہیں۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ واقعہ صبح 7 بجکر 45 منٹ پر پیش آیا ہے۔ دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اب بھی کئ افراد متاثرہ گوردوارے میں پھنسے ہوئے ہیں، جنکو نقلنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

اقلیتی سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرین نریندرا سنگھ خالصہ نے اے پی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جب حملہ ہوا تو وہ گوردوارہ کے قریب تھا، انہوں نے کہا کہ کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔

خالصہ نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ عمارت میں ابھی بھی بہت سے لوگ موجود ہیں، انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے اپنا حملہ ایک ایسے وقت میں کیا جب دھرم شالا عبادت گزاروں سے بھرا ہو تھا۔

طالبان نے اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ سکھوں کے گوردوارہے پر حملہ کرنے والے کتنے افراد تھے اور وہ کون تھے۔

اس ماہ کے شروع میں داعش (آئی ایس آئی ایس) کے ایک مسلح گروہ نے کابل میں اقلیتی شیعہ مسلمانوں کے اجتماع پر حملہ کیا تھا ، جس میں 32 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment