کورونا اور ہمارا رویہ

coronavirus-cases-in-pakistan-surge-to-189

دو چیزیں ایسی ہیں جو اچھے بھلے انسان کو مفلوج کر کے رکھ دیتی ہیں وہ ہیں خوف اور وہم‌۔ اس سے طاقت سَلب ہوجاتی ہے ،حواس تک کام کرنا چھوڑ جاتے ہیں ۔کرونا وائرس وبا کی صورت میں ظاہر ہوا ، یہی مشیت الہی تھی ۔جب تک اللہ چاہے گا یہ رہے گا ، اور جب اللہ پاک کا حکم ہوگا یہ ختم ہوجائے گا ۔ہم اللہ کریم سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔ہمیں چاہیےکہ اس کا خوف نہ اپنے اوپر مسلط نہیں کریں اور نہ‌ہی اس کے آگے سرجھکا دینا چاہیے کہ جب چاہے نقصان پہنچا دے۔بیماری ہو یا دشمن ، اس کے ساتھ آخری حد تک لڑتے رہیں چاہےنجات ہویا شہادت ملے۔
اٹلی وغیرہ ممالک ، جہاں وائرس نےشدت سے حملہ کیا ہے ، وہاں کی تصویریں اور مریضوں کی تعداد بار بار شئیر کرنا کوئی عقل مندی نہیں۔ یہ چیزیں خوف پھیلانے کا سبب بنتی ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ کورونا وائرس اس وقت تقریبا ً 150 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے اور اس سے متاثرہ ممالک میں چین ،اٹلی،ایران ،امریکہ،جرمنی ،سپین نمایاں ہیں۔الحمد للہ چین اور دیگر کئی ممالک نے مکمل لاک ڈاؤن اور مکمل احتیاطی تدابیر کے ذریعےکافی حد تک اس پر قابو پالیا ہے ۔پاکستان میں بھی اس وقت مکمل لاک ڈاؤن چل رہا ہے۔حکومت نے مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔پاکستان میں اس وقت تک 1 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں اور آخری اطلاعات تک اموات کی تعداد 10 سے زائد نہیں ہے۔جہاں اس وقت پوری دنیا اس وائرس کےحوالے سے لوگوں کے اندر خوف کو کم کرنے کی کوشش میں ہے کہ یہ خطرناک ضرور ہے مگر اس سے احتیاط کے ذریعے محفوظ رہا جا سکتا ہے وہیں پر اس ہنگامی صورتحال میں فیس بک اور واٹس ایپ پر یا تو لوگ اس کا مذاق اُڑا رہے ہیں یا اس سے ڈرا رہے ہیں۔بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اُمید افزا پیغامات دے رہے ہیں۔اسی بات کو شریعت کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں تو ہمیں بڑا خوبصور ت پیغام ملتا ہے۔نبی ﷺ فرماتے ہیں۔ اگر کوئی مکروہ( ناپسندیدہ ، ڈراؤنا ) خواب دیکھو تو اسے کسی کے سامنے بیان نہ کرو ، ( ایسا کرو گے تو ) وہ خواب تمھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔(سنن الترمذی )۔دیکھیے ، ہمارے پیارے نبی ﷺ نے کس خوبصورت انداز میں ہماری نفسیاتی تربیت فرمائی ہے ۔آپ فرماتے ہیں :جب ڈراؤنے خواب بھی کسی کے سامنے بیان کرنے کی‌اجازت نہیں ، تو دہشت زدہ کرنے والی خبریں بیان کرنا کب درست ہوگا ۔لوگوں کو خوش خبریاں سنانی چاہییں تاکہ‌وہ سکون کی زندگی جی سکیں اور کچھ کرسکیں ، انھیں ڈرا ڈرا کے ہلاکت کے دہانے نہیں پہنچا دینا چاہیے ۔ہمارا مہربان رب  ، ہماری غلطیاں معاف فرمائے ، رحمۃ للعالمینﷺ کے صدقے ہم پر رحم فرمائے ۔

اس وائرس سے جو ہمیں ظاہری نقصانات نظر آئے اُن میں سینماگھر ،نائٹ کلب ،رقص گاہیں ،شراب خانے ،جواخانے بند ہو گئے،جنسی بےراہ روی کےمراکزبند ہو گئے،سودکی شرح بھی کم کرادی،خاندان کے خاندان ایک طویل مدت کے لیے گھروں میں مقید ہوگئے۔مغرب میں غیر مرد کو غیرعورت سے کسی بھی قسم کے جسمانی تعلق سے روک دیا ،شراب پینا نقصان دہ امر بن گیا،درندے،شکاری پرندے،مردار،سور کا گوشت،خون اور مریض جانورکا گوشت ممنوع بنا دیا ،پبلک مقامات اور اجتماع کی جگہیں بند کروا دیں ۔لیکن اس کو دوسرے نقطہ نظر سے دیکھا جائے اس سے کچھ حاصل بھی ہوا کہ نہیں تودیکھئے اس نے عالمی ادارہ صحت کو اعتراف کروایا کہ شراب پینا تباہی ہے،لہذااس سے اجتناب کیاجائے،صحت کے تمام اداروں سے کہلوایا کہ درندے ،شکاری پرندے ،خون ،مردار اورمریض جانور صحت کے لئے تباہ کن ہیں۔ اس نے انسان کوسکھایا کہ چھینکنے کاطریقہ کیا ہے،اس نے سکھایا اور یاد کروایا کہ صفائی کس طرح کی جاتی ہے جو ہمیں ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سےتقریباً 1450 سال پہلے بتایا تھا اور ہم بھلا چکے تھے۔اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے سب کو معلوم ہو گیا۔، اس نے دونوں جنسوں کے اختلاط کومذموم قراردیا،اس نےدنیاکے بعض بڑے ممالک کےحکمرانوں کوبتادیاکہ لوگوں کوگھروں میں پابندکرنے،جبری بٹھانےاور ان کی آزادی چھین لینےکامعنی کیاہوتاہے، اس نے لوگوں کواللہ سےدعامانگنے گریہ و زاری کرنےاوراستغفارکرنے پرمجبور اورمنکرات اورگناہ چھوڑنے پرآمادہ کیاہے،اس نےمتکبرین کے کبر و غرور کا سرپھوڑ دیااورانہیں عام ا نسانوں کی طرح لباس پہنایا اس نے دنیامیں کارخانوں کی زہریلی گیس اوردیگر آلودگیوں کوکم کرنے کی طرف متوجہ کیاجن آلودگیوں نے باغات، جنگلات، دریا اور سمندروں کوگنداکیاہے، اس نے ٹکنازلوجی کو رب ماننے والوں کودوبارہ حقیقی رب کی طرف متوجہ کیاہے، اس نے حکمرانوں کوجیلوں اورقیدیوں کی حالت ٹھیک کرنے پرآمادہ کیاہے۔ اورسب سے بڑاکارنامہ یہ کہ اس نے انسانوں کواللہ کی وحدانیت کی طرف متوجہ کیا،ہم مسلمانوں کو شرک اورغیراللہ سے مددمانگنے سے منع کیا، پوری دنیا میں تمام عیش وطرب کے مراکز بندکرا دئیے، انسان کودوبارہ اس کی انسانیت کی طرف ،اس کےخالق کی طرف اوراس کےاخلاق کی طرف متوجہ کیا-آج عملی طورپریہ بات واضح ہوگئی کہ کس طرح بظاہر ایک وائرس لیکن حقیقت میں اللہ کا امر انسانیت کےلئے شر کے بجائے خیر کاباعث بن گیا۔تواے لوگو! کرونا وائرس پرلعنت مت بھیجو یہ تمہارے خیر کے لئے آیاہے کہ اب ا نسانیت اس طرح نہ ہوگی جس طرح پہلے تھی۔جیسے کسی مشین کی کارکردگی خراب ہو جائے تو مکینک کو اس کے سارے فنکشن روک کر اس کو ایک دفعہ اوور ہال کرتا ہے تاکہ دوبارہ وہ بہتر انداز سے کارکردگی دکھا سکے۔ہمارے گھروں میں محصور ہونا اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنے کریم رب سے اپناٹوٹا ہوا تعلق بحال کر سکیں،گھر اللہ کے ذکر سے خالی ہو چکے تھے ،مسجدوں میں جانا روک کر گھروں کو مسجد بنوایا،گھر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے دور تھے ،رشتوں کا تقدس باور کروایا۔انسان اس تیز اور مصروف زندگی اپنا آپ بھول چکا تھا اس کو وقت دیا کہ وہ اپنے بارے میں اپنی ذات پر غورو فکر کر سکے اور اپنی زندگی کا مقصد ڈھونڈ سکے۔اپنا محاسبہ کرے اور اپنے نادانیوں،کوتاہیوں اور گناہوں پر اللہ سے معافی مانگ سکے۔توبہ کی طرف متوجہ ہوں اور فکر آخرت کریں۔عزم مصصم کریں اور زندگی کو دوبارہ ایک موقع دیں اور آنے والے وقت کو مثالی بنائیں۔اللہ پاک سب کا حامی و ناصر ہو۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment