کورونا وائرس: نسٹ نے پاکستانی معیشت پر اثرات کے متعلق رپورٹ پیش کر دی

اسلام آباد: نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کورونا وائرس کے پاکستان کی معیشت پراثرات سے متعلق رپورٹ جاری کردی۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال مجموعی طور پر شرح نمو 2 سے  2.5 فی صد رہے گی۔ صنعتی پیداوار 3.5 فی سے 4.5 فیُصد رہے گی۔ رواں مالی سا ل کے دوران کرنٹ اکاونٹ خسارہ تین ارب ڈالر رہے گا۔ رواں مالی سا ل ٹیکس وصولیاں 4400 سے 4450 ارب روپے رہیں گی۔ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 7.5فی صد سے آٹھ فی صد رہے گا۔  بین الااقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی کا اگر آدھا فائدہ صارفین لوُدیا جائے تو تیل کی قیمت میں بیس روپے فی لیٹر کمی آے گی۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف سے ٹیکس وصولیاں بجلی اور گیس کی قیمت میں اضافے کی شرائط دوبارہ طے کرنا ہوں گی۔ آئی ایم ایف سے شرح سود اور پرائمری خسارے کے اہداف نئے سرے سے طے کرنا ہوں گے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت لئے جانے والے اقدامات پاکستان کی موجودہ صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے۔ شرح سود بین الااقوامی رحجانات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔  جون تک شرح سود کو سات  فی صد تک لایا جائے۔ اس سے آٹھ سو ارب روپے کئ بچت ہو گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  حکومت بزنس سپورٹ فنڈ تشکیل دے۔ ٹیکس ری فنڈ اور ڈیوٹی ڈرا بیک فوری طور پر ادا کئے جایئں۔ برآمدی شعبے کے لئے زیرو ریٹ ٹیکس کی سہولت اگلے مالی سال میں بھی جاری رکھی جائے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے رواں مالی سال کے دوران خلیجی ممالک سے ترسیلات زر میں کمی آئے گے۔  ورکرز ویلفیر فنڈ اور ای او بی آئ کاروباری سرگرمیاں بڑہانے اور ڈیلی ویج ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کے لئی استعمال کیا جائے۔ طویل مدتی قر ض اور سود کی ادائیگی تین ماہ کے لئے موخر کی جائے۔

اگلے مالی سال کے لئی ٹیکس وصولیاں کا ہدف 6300 ارب روپے سے کم کرکے پانچ ہزار مقرر کیا جائے۔ کم سے کم ٹیکس ٹرن اور میں پچاس  فی صد کمی کی جائے۔ بی آئ ایس پی کے تحت دی جانے والی امدادی رقم دو گنا کی جائے۔ خوراک کو ذخیرہ کرنا اور سپلائی ایک چیلنج ہونگا۔ اسلا م آباد ضلع کی سطح پر ذخیرہ اندوزی روکی جائے۔ صوبوں کیلے درمیان بہتر تعاون اے خوار ک ذخیرہ اور تقسیم کے انظامات بہتر بنائے جایئں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بین الاقومی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی سر رواں سال درآمدات میں ایک ارب ڈالر کمی آئے گی۔ اگلے سا ل یہ کمی دو ارب ڈالر  تک ہو گے۔ برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک کی طرح صنعتی اور چھوٹے کاروبار کے لئے فنڈ قائم کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں