کورونا کے مشتبہ مریض قرنطینہ جانے سے گھبرا کیوں رہے ہیں؟


ملک میں کورونا کے مشتبہ مریض اوراس وائرس سے متاثر ممالک سےآنے والے قرنطینہ سینٹرز میں جانے سے گھبرا رہے ہیں۔ کوئی قرنطینہ سینٹرز سے خود کو نکلوانے کے لیے سفارشیں کروا رہا ہے تو کوئی وہاں سے فرار بھی ہو رہا ہے۔

 ملک میں اس تاثر کو بہت تقویت مل رہی ہے کہ قرنطینہ یا آئسولیشن سینٹرز میں انتظامات ناقص ہونے کی وجہ سے لوگ وہاں رہنے سے کترا رہے ہیں، تفتان میں قائم کیے گئے سینٹرز کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں وہاں رکھے گئے افراد کی بے چینی کو دیکھا جا سکتا ہے، لوگ وہاں سے اپنے رشتہ داروں کی فوتگی کا بتا کر نکلنے کی درخواست کر رہے ہیں۔

اسی طرح ہی جنوبی پنجاب کے علاقے ڈیرہ غازی خان کے قرطینہ سینٹر میں داخلے سے قبل فرار ہو کر میاں چنوں کے ایک نواحی گاؤں میں آنے والے نذر نامی ایک زائر کے لیے جب اس کے آبائی گھر میں چھاپا مارا گیا تووہ پولیس کے آنے کی اطلاع پا کر لاہور چلا آیا۔ اسی طرح لاہور میں پی کے ایل آئی میں قائم قرنطینہ سے بھی گذشتہ رات ایک بچی کے باہر چلے جانے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔

وزیراعلی پنجاب کے مشیر برائے صحت حنیف خان پتافی  بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ قرنطینہ سینٹرز میں آنے سے لوگ گھبرا رہے ہیں، ان کے بقول، ان لوگوں کو لگتا ہے جیسے ان کو قرنطینہ بھیج کر ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جا رہا ہے۔ ”یہ بات بھی درست ہے کہ قرنطینہ قائم کرنے کا ہمارا تجربہ پہلا تھا، اس میں سہولیات کی فراہمی میں کچھ دیر بھی ہوئی لیکن اب صورتحال بہت بدل چکی ہے اور حالات بہتر ہو رہے ہیں۔‘‘  لیکن ان حکومتی دعووں کی تصدیق فیلڈ سے ملنے والی اطلاعات سے نہیں ہو رہی ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کے خلاف آپریشن سے وابستہ پنجاب حکومت کے ایک اعلی افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ قرنطینہ میں جانے سے لوگوں کے ڈرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میڈیا نے ان کو کچھ زیادہ ہی ڈرا دیا ہے، انہیں اس کی افادیت سے آگاہی فراہم ہی نہیں کی جاسکی۔

ڈیرہ غازی خان کے ڈپٹی کمشنر طاہر فاروق کا اس بارے کہنا ہے کہ لوگوں کے قرنطینہ سے گریز کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زائرین تیس چالیس دن ایران میں گزار کر آئے ہیں، پھر انہیں تفتان میں قیام کرنا پڑا ہے ان اگر دو ہفتوں کے لیے انہیں ڈی جی خان میں رکھا ہے تو پھر ان کے گھر والوں سے اداسی اور قرنطینہ سے اکتاہٹ قابل فہم ہے۔ ان کے بقول ڈی جی خان سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر زرعی یونیورسٹی میں بنائے جانے والے قرنطینہ سینٹر میں رکھے گئے مشتبہ مریضوں کو تین وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے، یہاں ٹیسٹوں کی سہولتیں بھی موجود ہیں، اس کے علاوہ عملہ بچوں کے لیے چپس، کھلونے، خواتین کے لیے فیس واش اور ڈٹرجینٹ سمیت ان کو ضرورت کی ہر چیز فراہم کر رہے ہیں۔

ادھر پنجاب حکومت نے کورونا کے مریضوں کے لیے مزید قرنطینہ سینٹرز بنانے کے ساتھ ساتھ کورونا کے مشتبہ مریضوں کو ان کے گھروں میں آئسولیشن فراہم کرنے کے لیے بھی ایس او پیز بنانا شروع کر دیے ہیں۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.