کورونا وائرس حاملہ خواتین پر بھی ظلم ڈھانے لگا


کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں جہاں طبی آلات کی قلت پیدا ہوگئی ہے، وہیں طبی عملہ بھی کم پڑ گیا ہے جب کہ ہسپتالوں سمیت کئی دیگر جگہوں کو عارضی آئسولیشن سینٹرز اور قرنطینہ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ لیکن اس باوجود کئی ممالک میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے۔

عام ہسپتالوں میں قرنطینہ سینٹرز بنانے اور وہاں پر دیگر مریضوں کے علاوہ زیادہ تر کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے سمیت دنیا بھر میں دیگر بیماریوں میں مبتلا مریض پریشانیوں کا شکار ہیں۔ یہاں تک کہ امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک میں حاملہ خواتین بھی سخت مشکلات کا شکار ہیں۔

برطانیہ اور امریکا کے ہسپتالوں کے گائنی وارڈز اور لیبر رومز کو کورونا وائرس قرنطینہ میں تبدیل کرنے اور طبی عملے کی جانب سے وبا کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے سے وہاں پر حاملہ خواتین سخت مشکلات کا شکار ہیں اور متعدد ہسپتالوں نے ڈلیوری کرنے والی خواتین کو ہسپتال میں داخل کرنے سے ہی انکار کردیا۔

برطانیہ اور امریکا کے متعدد ہسپتال جہاں حاملہ خواتین کو گھر میں بچوں کی پیدائش کے مشورے دے کر انہیں ہسپتالوں میں داخل کرنے سے انکار کر رہے ہیں، وہیں متعدد خواتین کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ ہسپتال کی طرف سے اپنے ساتھ صرف ایک شخص کو رکھ سکتی ہیں، ہستپال انتظامیہ کی جانب سے کوشش کی جا رہی ہے کہ خواتین آپریشن کے بغیر ہی بچوں کو جنم دیں۔

برطانوی اخباردی انڈیپینڈنٹ کے مطابق برطانیہ کے محکمہ صحت نے طبی عملے کی قلت اور ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے خصوصی سینٹرز قائم کرنے کے بعد حاملہ خواتین کو تجویز دی ہے کہ وہ گھروں میں ہی بچوں کی پیدائش کو یقینی بنائیں۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین صحت نے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے اور ہسپتالوں میں کورونا کے بہت سارے مریض ہونے اور طبی عملے کی جانب سے کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے سے ان کے متاثر ہونے کے بعد حاملہ خواتین ٹارگٹ پر ہیں، اس لیے وہ ہسپتالوں کا رخ نہ کریں تو بہتر ہے۔  برطانیہ کی طرح امریکا کے بھی متعدد ہسپتالوں سے ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ وہاں بھی حاملہ خواتین کو داخل نہیں کیا جا رہا اور انہیں گھر جاکر محفوظ ڈلیوری کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

اے بی سی 7 نیوز نے بتایا کہ امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان فرانسسکو کے ہسپتالوں میں خواتین کو زیادہ ترسہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں اور انہیں اس عمل میں ساتھ دینے کے لیے صرف ایک ہی شخص فراہم کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ اس عمل سے دوسری یا تیسری مرتبہ مائیں بننے والی خواتین زیادہ پریشان نہیں دکھائی دے رہیں، تاہم جن کے ہاں پہلی بار بچے کی پیدائش ہو رہی ہے وہ ذہنی اذیت اور مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔

سی بی ایس نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے ہسپتالوں نے ایک ہفتہ قبل ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ حاملہ خواتین کو ڈلیوری کے لیے داخل نہیں کرسکتے۔ رپورٹ کے مطابق ہسپتال انتظامیہ نے خواتین کو گھروں میں ہی بچوں کی پیدائش کا مشورہ دیتے ہوئے انہیں پابند کیا کہ وہ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے حالیہ دنوں میں ہسپتال نہ آئیں کیوں کہ ایسا ان کی اور آنے والے بچے کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ریاست نیویارک، میساچوسٹس اور نیوجرسی سمیت دیگر ریاستوں کے ہسپتالوں اور بڑے شہروں کے معروف ہسپتالوں نے بھی حاملہ خواتین کو سیزر کے بغیر گھر پر ہی بچے کی پیدائش کی ہدایت کی۔

ہسپتالوں کی جانب سے حاملہ خواتین کو طبی سہولیات فراہم نہ کرنے اور انہیں گھروں میں ہی بچوں کی پیدائش کرنے پر مجبور کرنے کے بعد امریکا و برطانیہ میں نوزائیدہ ماؤں اور بچوں کی صحت سے متعلق خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ حاملہ خواتین کو ہسپتالوں میں داخل نہ کرنے کے اعلان کے بعد 2 دن قبل ہی امریکی ریاست نیویارک کے گورنر نے ہسپتالوں کو اپنا اعلان واپس لینے اور خواتین کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات بھی کیں۔

نیویارک کے گورنر نے ہسپتالوں کی تاکید کی کہ تمام حاملہ خواتین کو یکساں اور مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور کسی کی بھی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالا جائے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.