کورونا وائرس: سائنسدانوں کا بڑا مطالبہ،پینگولین کی خریدوفروخت پر پابندی عائد کی جائے

لندن: ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بڑے پیمانے میں اسمگل کیے جانے والےجانور پینگولین میں کورونا وائرس پایا جاتا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سائنسدانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگلی جانوروں کی مارکیٹ میں اس کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے تاکہ مستقبل میں وبائی امراض سے بچا جا سکے۔

پینگولین بڑے پیمانے میں اسمگل کیا جانے والا ممالیہ جانور ہے جو غذا اور دوا دونوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ معروف جریدے نیچر میں محققین نے خبردار کیا ہے کہ ان جانوروں کو چھونے میں احتیاط سے کام لیا جائے اور ان پر مزید  تحقیق کی جائے تاکہ مستقبل میں ان سے انسانوں تک منتقل ہونے وائرس کےبارے میں جانا جا سکے۔ یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کے پروفیسر ڈاکٹر ٹومی لیم نے بتایا ہے کہ چین میں اسمگل کیے جانے والے پینگولین  میں دو طرح کے کورونا وائرس پائے جاتے ہیں جن میں سے ایک وائرس نے وبائی شکل اختیار کی ہوئی ہے۔ انہوں نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو بتایا کہ سارس کووڈ ٹو کے حوالے سے ابھی یہ بات سامنے نہیں کہ وہ بھی اسی جانور سے منتقل ہوا ہے تاہم ان جانوروں کی مارکیٹ میں سیل پر سختی سے پابندی عائد کر دینی چاہئے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment