کورونا وائرس کے خوف سے دنیا بھر میں لوگ انوکھی تراکیب اپنانے لگے

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے وائرس سے بچاؤ کے لیے مختلف  تجاویز دی گئی تھیں جس کے بعد دنیا بھر میں کورونا وائرس نے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور ہرکوئی اس خطرناک وائرس سے بچنے کے لیے انوکھی تراکیب آزما رہا ہے۔
جہاں لوگ حفاظتی لباس پہن کر اپنے اپنے گھروں سے نکل رہے ہیں وہیں سپر مارکیٹ میں ایک شخص حفاظتی لباس کے طور پر خلاء باز جیسا لباس پہن کر خریداری کرتا دیکھا گیا  جس کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔برطانیہ میں ایک ہیئر ڈریسر کی تصویریں بھی وائرل ہوئیں جنہوں نے اپنے آپ کو سر سے پاؤں تک حفاظتی لباس سے ڈھانپا ہوا تھا تاکہ وہ وائرس کے پھیلاؤ سے بچ سکیں۔
یک انوکھا واقعہ بھارت میں دیکھنے میں آیا جہاں وائرس سے بچنے کے لیے 7 افراد نے خود کو درخت کے اوپر قرنطینہ میں داخل کرلیا۔ ان تمام تر افراد نے خود کو قرنطینہ میں داخل کرنے کے لیے درخت کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ ان کے چھوٹے سے گاؤں میں سیلف آئسولیشن کے لیے الگ الگ کمرے نہیں تھے۔

Corona-India-Isolationبھارتی میڈیا کے مطابق ان تمام تر 7 افراد نے اپنا بستر درخت کے اوپر شاخوں کی مدد سے باندھا جب کہ مچھر سے بچنے کے لیے انہوں نے مچھر دانی والی جالی کا استعمال کیا۔ دوسری جانب ان افراد کے خاندان والے سبزیاں، دالیں اور دیگر راشن کا سامان درخت کے ہی نیچے رکھ کر چلے گئے تھے اور ان کے جانے کے بعد یہ لوگ درخت سے نیچے اتر کر کھانا بنا کر واپس اوپر چلے جایا کرتے تھے۔ درخت کے اوپر قرنطینہ میں وقت گزارنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ ایک چھوٹی سی مٹی کی جھونپڑی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے ہیں اور ان کے پاس آئسولیشن میں رہنے کے لیے الگ الگ کمرے نہیں تھے۔ اگرچہ ان تمام تر افراد میں کورونا وائرس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئیں لیکن انہوں نے احتیاط برتتے ہوئے خود کو قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں