ڈینیل پرل قتل کیس کے 3 ملزمان 18 سال بعد بری

کراچی: جسٹس کے کے آغا اور جسٹس ذوالفقار سانگی پرمشتمل سندھ ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے ڈینیل پرل قتل کے ملزمان کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں قراردیا کہ ڈینیل پرل کے قتل کا الزام کسی ملزم پر ثابت نہیں ہوا تاہم احمد عمر شیخ پراغوا کا الزام ثابت ہوا ہے۔ عدالت نے احمد عمر شیخ کے علاوہ باقی تینوں ملزمان کو بَری جب کہ احمد عمر شیخ کی سزائے موت کو 7 سال قید میں تبدیل کر دیا۔

یاد رہے ڈینیل پرل امریکی جریدے وال اسٹریٹ جنرل جنوبی ایشیا ریجن کے بیورو چیف تھے۔ انہیں کراچی میں اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 15 جولائی 2002 کو ملزمان کو  سزا سنائی تھی۔ برطانوی شہریت رکھنے والے ملزم احمد عمر شیخ کو عدالت نے سزائے موت کا حکم دیا تھا۔ ملزم فہد سلیم، سید سلمان ثاقب اور شیخ محمد عادل کو عمر قید کی سزا دی گئی تھی۔ ملزمان کی سزاوں کے خلاف اپیلیں 2002 سے تعطل کا شکار تھیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment