کورونا وائرس: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان میں 250 آسامیاں خالی


ملک میں کورونا کی وبا اور ڈریپ خاموش تماشائی  بنی بیٹھی ہے۔  کورونا کی وبا پھیلنے کے باوجود ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے ایک بھی سنیٹائزررجسٹرڈ نا ہوسکا۔ غیر معیاری سنیٹائزر کھلےعام فروخت ہورہے ہیں۔ جس کی بڑی وجہ ڈریپ میں اہم عہدوں پر خالی آسامیاں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان میں ڈریپ کے 14 ڈپارٹمنٹ میں سی سی او سمیت ڈائیرکٹر کی 250 آسامیاں خالی ہونے سے نئی دوائیں نا بن سکیں۔

ایک طرف بائیولوجیکل لیب کی قلت اوراہم پوسٹوں پرمعمور آفیسر نا ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو دوسری طرف ہر تین ماہ بعد ایڈیشنل ڈائیریکٹر کی بھرتیاں ہونے لگی ہیں  جس کی بنا پرایڈیشنل ڈائیریکٹر ڈریپ مختلف ڈپارٹمنٹ چلانے پرمجبور ہے۔ 


Leave A Reply

Your email address will not be published.