کورونا سے ڈرنا نہیں

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح کورونا وائرس نے پاکستان کا رخ کیا تو ہر طرف خوف کی فضا قائم ہو گئی اور ہر دوسرے دن کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ کورونا وائرس بے قابو ہونے سے پہلے ہی اسلام آباد میں  بھی اس وبا سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن کیا گیا تاکہ شہریوں کو اس مہلک وبا سے بچایا جا سکے۔ شہریوں کو تلقین کی گئی کہ آئسولیشن کا راستہ اپنائیں گھروں تک محدود رہیں لیکن شہری کرونا وائرس کو ایک عام موسمی بیماری سمجھتے ہوئے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے لگے اور آئسولیشن کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی من مانیاں کرنے لگے۔ جسکا نتیجہ اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر شہروں میں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد میں نظر آیا۔

بات لاک ڈاؤن کی ہو رہی ہے تو اسلام آباد یعنی شہر اقتدار میں ہی کئی لوگ آئسولیشن کے اصول کی نفی کرتے رہے۔ شہری گھروں میں رہنے کے بجائے دوست احبابِ کے گھر دعوتیں اڑانے لگے سوائے ان چند افراد کے جو کورونا کو واقعی مہلک وبا سمجھ رہے تھے باقی سینکڑوں افراد نے اپنے آبائی علاقوں کی راہ لی لیکن احتیاطی تدابیر نہ اپنائیں۔ بسوں ویگنوں میں سوار ہوتے لیکن ماسک نہ سینیٹائزر بلا خوف و خطر سفر پر روانہ ہوتے کہ کچھ نہیں یہ کورونا۔

میرا اسلام آباد کی ایک بڑی مارکیٹ میں جانا ہوا تو حیرانگی ہوئی دیکھ کر فیملی کے تین افراد میاں بیوی اور 5 سالہ بچی کون آئسکریم کھانے میں مگن تھے میں نے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ٹوکا کہ وائرس کا موسم ہے احتیاط برتیں۔ اسطرح بیچ مارکیٹ میں جس طرح آئسکریم آپ لوگ کھا رہے ہیں تو خدا ناخواستہ وائرس اس فضا میں متاثرہ شخص سے کہیں سے بھی اٹیک کر سکتا ہے۔ خاتون میری بات کو ان سنی کرتے ہوئے میاں اور بچی سے مخاطب ہوئیں کہ کھا لو آئسکریم کچھ نہیں یہ کورونا شرونا۔ تو یہ تو ہے ہماری سنجیدگی کا عالم!

پبلک ٹرانسپورٹ وائرس پھیلانے کا بڑا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ نے پبلک ٹرانسپورٹ احتیاطاً بند کر دی ۔لیکن مشکل وقت میں کچھ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو عوام کا نہیں اپنا فائدہ سوچتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلتی رہی۔ اتنا ہی نہیں کچھ سموسے پکوڑوں کی دکانوں نے بھی دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خوب سموسے پکوڑے حلوہ پوریاں چلائیں۔ خدا ناخواستہ مارکیٹ میں جہاں چاروں طرف گندگی لازمی ہوتی ہے پھر وہاں قریب سے کوئی متاثرہ شخص کھانستے یا چھینکتے گزر جائے تو سموسوں کا وہ تھال یقیناً سینکڑوں افراد کے لیے وبال جان بنے گا اور وائرس حملہ کرے گا ۔لیکن عوام کا کیوں سوچا جائے زندگی کا بھروسہ نہیں یہی دن ہیں کما لو جتنا کما سکتے ہو۔

اسلام آباد میں اسی طرح بچے پتنگ بازی میں یا کرکٹ میں مصروف ہوتے ہیں۔ دن بھر بچے باہر اٹھکیلیاں کرتے ہیں کہ کورونا وائرس کچھ نہیں۔ ملک میں ویسے بھی کورونا وائرس مریض 1 سے 100 پھر 100 سے ہزار اور 2 ہزار میں بدلنے میں وقت نہیں لگا ۔لیکن شہری اس وائرس کو سنجیدہ لینے کو تیار نہیں۔ شہر اقتدار سمیت مختلف شہروں میں لاک ڈاؤن کے ساتھ شدید سختی کرنے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ یہ مہلک وبا ہزاروں جانیں نگل لے شہریوں کو بھی سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ کورونا وائرس سے واقعی ڈرنا نہیں لڑنا ہے اور اسکے لیے خود کو گھروں تک محدود کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں