کورونا وائرس: فاصلہ ضرور رکھیں مگر احساس کے ساتھ

ڈھلتی شام اور چمکتے آسمان تلے بیٹھی ہوئی اک معصوم سی فاطمہ اپنی آنکھوں میں نہ تھمنے والے آنسو لے کر اس بات کا ثبوت دیتی ہے کہ شاید کورونا وائرس جیسی ہزاروں خطرناک وبائیں صرف غریبوں کو ہی متاثر کرنے چلی آتی ہیں۔ ننھی سی پری یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہے کہ امیر اپنے گھروں میں رہ کر بڑے سے بڑے عذاب سے بآسانی نمٹ سکتے ہیں لیکن مشکلات صرف اس کے بابا جیسے دیہاڑی دار مزدوروں کی جیب پر اثر انداز ہوتی ہیں جو ان وباوں سے نمٹنے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ فاطمہ کے دل میں اس وبا کے خاتمے کی جو بچی کچی امید تھی وہ بھی بابا کی خالی جیب دیکھ کر کہیں دب کر ہی رہ گئی۔ کیونکہ وہ یہ بات باخوبی جانتی ہے کہ پڑوس میں رہنے والے حاجی صاحب راشن تو تقسیم کرتے ہیں لیکن ان راشن کی تھیلیوں کے ساتھ تصاویر کھیچوانا اپنا اولین حق سمجھتے ہیں۔ وہ یہ سوچنا بھول جاتے ہیں کہ غریبوں کی بھی عزت نفس ہوتی ہے یا شاید کچھ لوگ سفید پوشی میں رہتے ہوئے اپنے خاندان کا پیٹ پالنا چاہتے ہیں۔

کل فاطمہ کی پکی سہیلی عائشہ فاطمہ کے ہمراہ آئی اور اس کے بتانے پر فاطمہ کو معلوم ہوا کہ عائشہ کے محلے میں تو صورتحال نہایت ہی مختلف ہے۔ وہاں سب علاقہ مکین ایک دوسرے کا ہر لحاظ سے بخوبی خیال رکھتے ہیں۔ اگر محلے میں ذرا سی بھی لاپرواہی برتی جاتی ہے تو پورا محلہ مل کر اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ اگر کوئی ایک گھرانہ بھی بھوکہ سو جائے تو محلے والے اس کو اپنی تذلیل سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی نمازی بنا گھر سے جائے نماز لیئے مسجد میں جاتا ہے تو سب مل کر اس کی خوب کلاس لیتے ہیں اور اسے اس وائرس سے متعلق جو پہلو دھندلا رہ گیا تھا اس کو مزید کلیئر کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں تاکہ آئندہ وہ مسجد میں داخل ہونے سے پہلے احتیاطی تدابیر کو مد نظر رکھے۔ پورے محلے میں کوئی بھی اور کسی بھی پیمانے میں پائی جانے والی کریانہ کی دوکان شام پانچ بجتے ہیں بند کر دی جاتی ہے۔ محلے کے بچوں کو سختی سے ڈرایا گیا ہے کہ اگر وہ گھر سے غیرضروری باہر نکلے تو ان سب کو پولیس انکل کے حوالے کر دیا جائے گا اور نجانے کیا کیا عائشہ بتاتی چلی جا رہی تھی اور فاطمہ نہایت ہی خاموشی کے ساتھ عائشہ کے محلے کو اپنے محلے سے توازنہ کرتی چلے گئی۔

فاطمہ نے ان سب چیزوں کو سوچنے کے بعد ایک لمبی سی آہ بھری اور آسمان کی جانب نگاہ اٹھا کر سورت ملک کی آیات دہرائی جس کا ترجمہ ہے کہ:

 بڑی ہی عظیم ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں بادشاہی ہے اس پوری کائنات کی اور وہ ہر چیز پر قادر ہے جس نے زندگی اور موت کو اس لئے پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے عمل کون کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment