نادرا نے سندھ حکومت کو ڈیٹا فراہم نہ کرنے کے الزام کو بے بنیاد قرار دے دیا

نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن کی جانب سے عائد کردہ اس الزام کی تردید کردی کہ ادارہ سندھ حکومت کو امداد کی فراہمی کے لیے ڈیٹا فراہم نہیں کررہا ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں الزام عائد کیا تھا نادرا امداد کی فراہمی کے لیے ڈیٹا فراہم نہیں کررہا۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی سے ایس ایم ایس کے لیے نمبر کی ویریفکیشن کا اب تک انتظار کیا جارہا ہے جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) بھی ٹیکس دہندگان کی تفصیلات فراہم کرنے میں سستی سے کام لے رہا ہے۔

جس پر نادرا کی جانب سے ٹوئٹر پر ہی پی پی پی رہنما کی ٹوئٹ کے جواب میں ان کے الزام کو مسترد کردیا گیا۔

ترجمان نادرا کی جانب سے دیے گئے بیان میں کہا گیا کہ شیری رحمٰن کی جانب سے ’ڈیٹا شیئرنگ کے حوالے سے وفاقی حکومت پر عائد کیا گیا الزام بے بنیاد ہے‘۔

ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ ’نادرا دیگر صوبوں کی طرح حکومت، سندھ کے ساتھ بھی تعاون کررہا ہے‘۔

شیری رحمٰن نے وفاقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’نقد امداد کو تقسیم کیا جانا ہے، اگر آپ تیار نہیں تو سندھ کے اقدامات کو کیوں سست کررہے ہیں؟‘۔

رہنما پیپلز پارٹی نے سوال کیا تھا کہ ’وفاقی حکومت، کیا اس کا مطلب یہی ہے کہ سندھ کو اس عالمی وبا سے اکیلے ہی لڑنا پڑے گا؟ ‘۔

بعد ازاں نادرا کے ویریفائیڈ اکاؤنٹ پر بھی ایک پیغام پوسٹ کیا گیا جس میں کہا گیا کہ ڈیٹا شئیرنگ کے حوالے سے چلنے والی خبر کی نادرا نے تردید کردی ہے۔

خیال رہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے میں لاک ڈاؤن سے متاثرہ غریب اور یومیہ اجرت کمانے والوں کو راشن کی فراہمی کا اعلان کیا تھا۔

جس کے بعد 29 مارچ کو وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کابینہ اجلاس میں بتایا کہ غریب افراد کی امداد کے لیے ریلیف انیشی ایٹو ایپلیکشن تیار کی ہے جس پر شناختی کارڈ کے ذریعے یومیہ اجرت کمانے والوں کے اندراج کی تجویز ہے۔

اس سلسلے میں سندھ حکومت نے فنڈ قائم کیا تھا تا کہ لاک ڈاؤن کے دوران مشکلات کا شکار غریب اور مستحق خاندانوں کی مدد کی جاسکے۔

ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے ایک ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہ یکم اپریل تک اس فنڈ میں 2 ارب 84 کروڑ 93 لاکھ 15 ہزار 486 روپے سندھ حکومت جبکہ 4 کروڑ 13 لاکھ 25 ہزار 671 روپے نجی عطیات دہندگان کی جانب سے موصول ہوچکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں