جیلوں میں سینکڑوں قیدی مختلف ذہنی و جسمانی بیماریوں کا شکار

 رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی جیلوں میں سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد 25 ہزار 456 ہے جبکہ انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد 48 ہزار 8 ہے۔ ملک بھر کی 114 جیلوں میں 60 سال سے زائد عمر کے 15 سو 27 افراد موجود ہیں۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ کو دی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی جیلوں میں موجود 21 سو قیدی مختلف جسمانی بیماریوں جبکہ 594 قیدی ذہنی بیماریوں کا شکار ہیں۔ صدر سپریم کورٹ بارسید قلب حسن کی سپریم کورٹ کو دی گئی رپورٹ میں جیلوں سے متعلق اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک بھر کی جیلوں میں سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد 25 ہزار 456 ہے جبکہ انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد 48 ہزار 8 ہے۔ ملک بھر کی 114 جیلوں میں 60 سال سے زائد عمر کے 15 سو 27 افراد موجود ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ مختلف جیلوں میں 11 سو 84 خواتین بھی جیلوں میں بند ہیں، پنجاب اور پختونخوا کی جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماوں کے ہمراہ بند ہیں۔ ملک کی مختلف جیلوں میں 33 فیصد سے زائد اضافی قیدیوں کو رکھا گیا ہے، جیلوں میں موجود 21 سو قیدی مختلف جسمانی بیماریوں کا شکار ہیں۔ ملک بھر کی مختلف جیلوں میں قید 594 قیدی ذہنی بیماریوں کا شکار ہیں۔

سپریم کورٹ کو دی جانے والی رپورٹ کے مطابق 24 سو قیدی ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسی مہلک بیماریوں کا شکار ہیں، صرف پنجاب میں 66 معذور قیدی مختلف جیلوں میں بند ہیں، جیلوں میں بند ٹی بی کے مریضوں کی تعداد 173 ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پنجاب کی 10 فیصد جیلوں میں ایمبولینس کی سہولت موجود نہیں، جیلوں میں نفسیاتی معالج کی 58 اسامیاں بھی خالی ہیں، جیلوں میں ڈاکٹروں کی 108 اسامیاں بھی خالی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment