مزدور طبقہ کے لیے لاک ڈاؤن ختم ، مزید اہم فیصلوں کا اعلان


وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارامقابلہ کورونا سے نہیں غربت اور بیروزگاری سے بھی ہے، ہر فیصلہ زمینی حقائق سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

اسلام آباد: وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے قومی رابطہ کمیٹی کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزرا حماد اظہر، خسرو بختیار، اسد عمر، معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان، ڈاکٹر ظفر مرزا، ڈاکٹر معید یوسف، چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹنٹ جنرل محمد افضل، اور وزیرِ اعظم کے فوکل پرسن برائے کورونا ڈاکٹر فیصل سلطان و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

اجلاس میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹرظفرمرزا نے ملک میں کورونا وائرس کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا، وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کورونا وائرس کی صورتحال کے تناظر میں معاشی و انتظامی اقدامات خصوصاً صوبہ سندھ سے بلوچستان اور پنجاب کو گندم کی بلاتعطل ترسیل، صنعتی یونٹس کی روانی، سی پیک منصوبوں پر عمل درآمد، وفاق اور صوبوں کے درمیان روابط کی بہتری اور کورونا کے حوالے سے مصدقہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے حوالے سے لیے جانے والے اقدامات اور ان پر پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کثیرالضابطہ ریسرچ کمیٹی قائم کی جائےگی، کمیٹی مختلف شعبوں سے متعلق سفارشات مرتب کرے گی، اور یہ سفارشات قومی رابطہ کمیٹی کے سامنے پیش کرے گی تاکہ ان سفارشات کی روشنی میں کمیٹی مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کر سکے۔ اجلاس میں حکومت نے سی پیک منصوبوں پر کام کھولنے کا فیصلہ کیا اور وفاقی دارالحکومت میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملے کیلئے ایک ماہ کی اضافی تنخواہ کی منظوری دی گئی اور کہا گیا کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کا جذبہ اور خدمات لائق تحسین ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ انسداد کورونا کیلئے دیگرممالک کے اقدامات کاجائزہ لیاجارہا ہے، پاکستان میں حالات دنیا سے مختلف ہیں، ہمارامقابلہ کورونا سے نہیں غربت اوربیروزگاری سے بھی ہے، ہر فیصلہ زمینی حقائق سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا، موجودہ صورتحال میں درست اور حقائق پر مبنی ڈیٹا کی دستیابی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، درست ڈیٹا کی فراہمی کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے کٹس،وینٹی لیٹرز اور دیگر آلات کی دستیابی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نجی شعبے کی 2 لیبارٹریز کو این ڈی ایم اے کی جانب سے ٹیسٹ کے آلات فراہم کیے جا رہے ہیں، ٹیسٹ کے اخراجات میں خاطرخواہ کمی لائی جائے گی، اس تجربے کو مدنظر رکھ کر یہ سہولت مزید14 لیبارٹریز میں فراہم کی جائے گی۔

وزیر اعظم نے معاشی ٹیم کے ساتھ ریلیف پیکج کے خدوخال پر مشاورت مکمل کرلی ہے جب کہ کل سے تعمیراتی انڈسٹری بھی کھول دی جائے گی اور وزیر اعظم عمران خان کل انڈسٹری سے متعلق پیکج کا اعلان کریں گے، انڈسٹری سے متعلق مزدوروں کی آمد ورفت کے لیے صوبوں کو ایڈوائزری جاری کردی گئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مزدور طبقہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور مزدوروں کا روزگار انڈسٹری سے وابستہ ہے، غریب کے گھر کاچولہا جلے اس لیے کل تعمیراتی انڈسٹری کھول رہے ہیں۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.