خود پر نئے راستے کھولیں

مشہور اور اہم لکھنے والوں کو پڑھنے والے قاری بہت کم ہوگئے ہیں پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد اس سرزمین پر اور ہند کی سرزمین پر اردو ادب کے نامور ادیب اور لکھاری پیدا ہوئے ہیں مثال کے طور پر احمد فراز، انشاء جی، محمد حسن عسکری، مشتاق احمد یوسفی اور فیض احمد فیض لیکن انہیں کون پڑھتا ہے؟ ان کا کام موجودہ دور کی زندگی اوراس کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا اس لئے اس میں لوگوں نے دلچسپی لینا ہی چھوڑ دی ہے۔

احمد فرازایک ایسا شاعر ہے جس کے کلام سے آپ زندگی کا ایک اہم نظریہ اخذ کرسکتے ہیں لیکن وہ نظریہ جس میں جذبہ محبت کی اہمیت بہت زیادہ ہے لیکن آج جذبہ محبت کی جگہ لوگ اورجذبات پسند کرتے ہیں۔ جذبہ محبت ان کے نزدیک وقت کا ضیاع ہے۔ اسی طرح نثر نگاروں میں انشاء جی اور مشتاق احمد یوسفی جیسے لوگ جنہوں نے طنز و مزاح کے ذریعے معاشرے کی خرابیوں کو اجاگر کیا ہے اور یہ معاشرے کی ذہنی تحذیب کے لئے اور نئی نسل کے جذبات کی تربیت کے لئے بہت اہم ہیں مادیت پرستی کے اس دور میں لوگوں نے یہ تصور کرلیا ہے کہ یہ ایک فضول مشق ہے اور چونکہ اس کا کوئی مالی فائدہ نہیں اور نہ یہ عملی زندگی کے مسائل کے حل میں مدد دے سکتے ہیں اس لئے ان پر وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے یہ سوچ غلط ہے نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں جب تک آپ ان ادیبوں کے کام کی اہمیت تسلیم نہیں کریں گے تو آپ خود نئی نسل کو ایک اہم ورثے سے محروم کردیں گے۔

اس درجے کے ادیب اور اس سے بلند تر ادیب ہمارا تاریخی اثاثہ ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے اگر آپ یہ سوچیں کہ ماضی گزر گیا اور ماضی سے رابطہ رکھنا ضروری نہیں اور حال کے دور میں معاشرہ جو کچھ کررہا ہے وہی کرتے جاؤ تو یہ سوچ غلط ہے۔ انسان بنا بنایا پیدا نہیں ہوتا اسے خود کو بنانا پڑتا ہے انسان ہر لمحہ اپنے آپ کو تخلیق کرتا ہے زندگی لمحات کے ایک بے معنی تسلسل کا نام نہیں ہے بلکہ یہ مسلسل انسان کے لئے ایک چیلنج ہے جس سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔

جب تک انسان اپنی تخلیقی قوت استعمال نہیں کرے گا تب تک وہ زندگی میں کامیاب نہیں ہوسکے گا اس لئے نئی نسل کے لئے ان ادیبوں کا مطالعہ ضروری ہے کیونکہ یہ ادیب اور شاعر ہی ہیں جو ان پر زندگی سے نبرد آزما ہونے کے لئے نئے راستے کھولتے ہیں اور ان راستوں پرانہیں چلنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ یہ کائنات اور ہمارے گرد پھیلی ہوئی اشیاء خود انسانی زندگی کا وجود ہیں، ہمارا علم ابھی بہت کم ہے جو نظریات ہمیں ورثے میں ملے ہیں اور جس سائنسی تحقیق سے ہمیں علم حاصل ہوا ہے وہ نہایت قیمتی ہے لیکن وہ اتنا ہی ہے جتنا سمندر سے چند قطرے اٹھا لینا اور جو کچھ ہم نہیں جانتے اگر ہم اس بات کو بھول جائیں گے تو ہم بہت ہی اہمیت کی چیز کھو جائیں گے نسلوں کی محنت سے جو کچھ ہم حاصل کرسکے ہیں اس کو لے کر ہم آگے بڑھیں اور روایت میں اضافہ کریں اسی میں زمین پر انسانیت کی فلاح و بقاء مضمر ہے۔

اگر ہم خود کو تعلیم دینا چاہتے ہیں تو ہم اس طرح کا نصاب تیار کریں جس سے ایک طرح کا معاشرہ تیارہو جو کہ حقیقت میں قابل رشک ہو۔ ابھی جس طرح کا رجحان اس زمانے میں چل نکلا ہے اس میں حقیقی انسان کا کوئی تصور نہیں ہے حقیقی انسان بہت اہم اور قیمتی ہے لیکن انسان جب اپنے درجے پر ہو انسان کی صلاحیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ علامہ اقبال نے کہا تھا

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
تو آب جو اسے سمجھا تو کوئی چارہ نہیں

لیکن ہم یہ تصور کرنے لگیں کہ انسان ایک چھوٹی سی مشین ہے جو آلو گوشت سے چلتی ہے تو انسان کا ایک محدود تصور ہوگا انسان میں جانور سے دیوتا بننے کی صلاحیت ہے لیکن اگر اس کی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے میدانِ عمل ملے تو وہ بہت آگے تک جاسکتا ہے اگر ہم غور کریں تو انسانی تاریخ کا تمام عمل ایک مسلسل جدوجہد ہے مختلف زمانوں میں انسان نے کائنات اور انسانی زندگی کے بارے میں مختلف زمانوں میں سچ کی تلاش میں زبردست جدوجہد کی او راس کا بھل نئی نسل تک پہنچایا تاکہ وہ اس کو لے کر آگے سفر جاری رکھ سکے یہی انسان کا سب سے اہم اور اولین فریضہ ہے کہ وہ سچائی تک پہنچنے کے لئے جدوجہد کریں۔

انسانیت کے بلند ترین راہنما یہی نصیحت کرتے رہے ہیں کہ انسان کو کائنات کے اندر اپنی حیثیت کا صحیح اندازہ لگاکر محنت کرنا چاہیے تاکہ انسان اور آنے والوں نسلوں کی بقاء کو ممکن بنایا جاسکے لیکن موجودہ دور میں انسان جن خرافات میں پھنس گیاہے اس سے وہ خود اپنی تباہی کا سامان فراہم کررہاہے یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی چھوٹی بڑی جنگل میں اپنا راستہ کھو کر بٹھک رہی ہو۔ آج پاکستان کو بنے ہوئے 70 سا ل ہوگئے ہیں ہم کسی بھی فیلڈ میں کوئی بڑا آدمی پیدا نہیں کرسکے نہ سائنس میں اور نہ ادب میں اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ہمارے نظام تعلیم میں کہیں نہ کہیں خرابی ہے۔

انسان کی تعلیم کے لئے سب سے اچھا ذریعہ وہ ہوتا ہے جو اسے کائنات کے ساتھ جوڑے انسان اپنے روابط کی وجہ سے ہے۔ انسان کی روابط اس کی زندگی اور خوشی ہے، سب سے اولین انسان کا کائنات سے رابطہ ہے اس کے بعد انسان کا انسان سے رابطہ دیکھا جائے تو یہی ہماری زندگی ہے۔ یہ روابط روز بروز بدلتے رہتے ہیں ہیں۔ خود انسان اپنے اندر تضادات کی ایک دنیا رکھتا ہے اس کے اندر تعمیری صلاحیتوں کے علاوہ تخریبی جبلتیں بھی ہیں۔

تخریبی جبلتوں کے چنگل سے بچنا آسان نہیں۔ انسان کا انتخاب اسے ماضی میں پھنسا دیتا ہے۔ اور وہ آزادی سے مستقبل کی طرف نہیں بڑھ سکتا اور اس طرح وہ تخریبی جبلتوں کے حوالے کردیتا ہے۔ اس کے لئے انسان کے لئے بہترین راستہ یہی ہے کہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے اور زندگی کو بدلنے کی کوشش کرے، دوسری صورت میں اس کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment