کورونا وائرس: پاکستان میں مریضوں کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ

پاکستان میں کورونا وائرس سے اب تک 2700 سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں ماہ کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 50 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ صوبے کے مختلف شہروں میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔ البتہ، قرنطینہ میں موجود افراد کی اکثریت کے کورونا ٹیسٹ منفی آ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاون کے باوجود کورونا کیسز کی تعداد بڑھے گی۔ لہذٰا ہم توقع کر رہے ہیں کہ اتنے لوگ ہی اسپتال آئیں گے۔ جنہیں ہم سنبھال سکتے ہوں۔

وزیرِ صحت پنجاب کا کہنا تھا کہ صوبے میں 10 ہزار بیڈز کورونا وائرس کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ لیکن اس تعداد کو بڑھا کر ہم 22 ہزار کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ابھی تک جو مریض ہمارے سامنے آ رہے ہیں۔ اُن کی اکثریت وہ ہے جو قرنطینہ میں تھی۔ تبلیغی اجتماع میں شریک ہونے والے 10 ہزار افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

پاکستان میں حکومت نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے قومی ایکشن پلان کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔ حکومت نے رواں ماہ کے اختتام تک متوقع مریضوں کی تعداد کے بارے بھی عدالت کو آگاہ کیا ہے۔

رپورٹ میں 25 اپریل تک کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 50 ہزار تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سات ہزار کیسز سنگین نوعیت اور ڈھائی ہزار کے قریب کیسز تشویش ناک نوعیت کے ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 41 ہزار کے قریب کیسز معمولی نوعیت کے ہوں گے جن کی جلد صحت یابی کی امید ہے۔

حکومت نے عدالت کو اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے صوبوں اور وبائی ماہرین کے ساتھ مل کر کورونا وائرس سے بچاؤ کی گائیڈ لائنز تیار کی ہیں۔ بیرون ملک سے واپس آنے والوں کی اسکریننگ کے قوائد بنائے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے لیے بھی ضابطہ کار وضع کر لیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment