چیف جسٹس:سندھ ہائی کورٹ کے آڈر سے معلوم نہیں کون کونسے قیدی باہر آگئے ہیں


چیف جسٹس وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر برس پڑے کہا کہ سندھ حکومت نے قیدیوں کو چھوڑا تو قیدیوں کو واپس کیسے لائینگے۔ وزارت انسانی حقوق حکومت کے موقف سے ہٹ کر موقف نہیں اپنا سکتی۔

رپورٹ کے مطابق آج سپریم کورٹ میں قیدیوں کی رہائی سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی ۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب جیل میں کوروناوائرس کامریض سامنے آیا ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں ان حالات میں تحفظ کےلیےایس اوپیز بنانےہوں گے،پولیس اورآرمی کی بیرک میں سیکڑوں لوگ رہتےہیں وہاں پرایس اوپیزکوفالوکیاجاتاہے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جیل کےحالات کاگھرسےمواذنہ نہیں کر سکتے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہائیکورٹ کے پاس ازخود نوٹس کا اختیارنہیں ۔ چیف جسٹس نے اس پر ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ کی تجاویز حکومتیں تسلیم کرینگی۔ عدالت عظمی حکم دیگی تو سب تعمیل کرینگے۔ سندھ ہائی کورٹ کے آڈر سے معلوم نہیں کون کونسے قیدی باہر آگئے ہیں۔ سندھ حکومت نے قیدیوں کو چھوڑا تو قیدیوں واپس کیسے لائینگے۔ وزارت انسانی حقوق حکومت کے موقف سے ہٹ کر موقف نہیں اپنا سکتی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب آپ کا ذمہ دار عہدہ ہے ہم اس بات کودیکھیں گے کہ آپ نےاس کیس میں کیسی معاونت کی،ہم اپنےآرڈرمیں آپ کاذکربھی کریں گے،تفتان،چمن اورطورخم بارڈرپرقرنطینہ کیےگئےلوگوں کیلئےتمام حفاظتی اقدام کریں،ان تینوں جگہوں پرلوگوں کوہرطرح کی سہولیات فراہم کریں۔

سندھ حکومت نے اٹارنی جنرل کے مؤقف کی تائیدکی تو چیف جسٹس نے کہا کہ قانون نےایسی ضمانتوں کااختیارصرف سپریم کورٹ کوہی دیاہے۔ قیدیوں کی ضمانتوں اور رہائی کا فیصلہ آج جاری کر دیا جائے گا، باقی معاملات پر سماعت کل ہوگی۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.