ماسک پہننے کے معاملے پر ڈبلیو ایچ او نے یو ٹرن لے لیا

دنیا میں ایک ملین سے زائد لوگ کووڈ 19 کا شکار ہو چکے ہیں اورایک اندازے کے مطابق اب تک یہ وائرس 5800 سے زیادہ جانیں نگل چکا ہے۔ ایک مسئلے نے بین الاقوامی طبی برادری کو تقسیم کر رکھا ہے وہ یہ کہ کیا کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے ہر ایک کو ماسک پہننا چاہیے؟

شروع سے ہی عالمی ادارہ صحت نے اس بات کی نفی کی ہے۔ ان کے مطابق بیمار اور طبی عملے کو ماسک پہننا چاہیے۔ کسی بھی صحت مند شخص کو پہننے کی ضرورت نہیں۔

اس ہی موقف کو امریکہ ، برطانیہ ، یورپ ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، بھارت ، جنوبی افریقہ اور سنگاپور جیسے ممالک کی طرف سے اپنایا گیا . انہوں نے مسلسل ہاتھ دھونے، سماجی دوری اور عوامی مقامات پر دوسروں سے ایک میٹر کا فاصلہ رکھنے پر زور دیا۔ .ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ ماسک ہیلتھ کیئر ورکرز کے لیے بچائے جائیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ہیلتھ ہنگامی پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مائیک ریان کہتے ہیں یہ تجویز کرنے کے لئے کوئی خاص ثبوت نہیں ہے کہ بڑے پیمانے پر آبادی کی طرف سے ماسک پہننے سے کوئی ممکنہ فائدہ ہو گا۔

لیکن تمام اس ہفتے بدل گیا جب جمعہ کو امریکہ اور سنگاپور دونوں نے شہریوں کو ماسک پہنن کر گھروں سے نکلنے کی نصیحت کی۔ خود عالمی ادارہ صحت نے بھی یو ٹرن لے لیا  ریان نے موقف دیا  "ہم یقینی طور پر حالات کو دیکھ سکتے ہیں کہ کمیونٹی کی سطح پر دونوں ہوم میڈ اور کپڑے کے ماسک کا استعمال اس بیماری کے مجموعی طور پر جامع ردعمل میں مدد مل سکتی ہے۔

اس بدلاو کی وجہ ان ثبوتوں میں اضافہ ہے کہ کچھ لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہوتے ہیں اور وہ دوسروں کو بھی بیمار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment