برلن کی مسجد میں پابندی کے باوجود اذان، سینکٹروں نمازی جمع

کولون: عالمی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جرمن دارالحکومت برلن کے ضلع نیو کولون میں قائم دارالسلام مسجد اور  پروٹیسٹنٹ مسیحی برادری کی ایک بین الثقافتی تنظیم ’آئی زیڈ جی‘  نے کورونا وائرس کے بحران کے دوران سماجی یکجہتی کی علامت کے طور پر ایک ہی وقت میں مسجد سے اذان اور گرجا گھر سے گھنٹیاں بجانے کے سلسے کا آغاز کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے جمعہ چار اپریل کی سہ پہر دارالسلام مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر جب اذان دی گئی تو تقریباﹰ تین سو افراد جمع ہو گئے۔

خیال رہے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام  کے لیے جرمنی میں عوام کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے اور تمام سماجی، مذہبی اور عوامی اجتماعات پر بھی پابندی عائد ہے۔ تاہم اذان کے بعد جب شہری ایک بڑی تعداد میں جمع ہونا شروع ہوگئے تو منتظمین نے ہجوم کو  مسجد کے سامنے اکٹھا ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ ’’ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ نماز کے موقع پر مسجد کے سامنے جمع نہ ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ وبائی مرض سے متعلق حکومت کی حفاظتی تدابیر پر عمل کیا جائے۔‘‘

اس اعلان کے باوجود نیو کولون کے مسلمان شہری جمعے کی نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہوتے رہے۔ برلن پولیس نے ٹوئٹر پر بتایا کہ مسجد کے امام، شہری انتظامیہ کے عملے اور پولیس اہلکار صرف جزوی طور پر لوگوں کو مقررہ فاصلہ برقرار رکھنے پر راضی کر سکے۔ برلن پولیس کی ایک ٹوئیٹ کے بقول، ’’ مسجد کے امام کے ساتھ بات چیت کے تحت نماز وقت سے پہلے ہی ختم کردی گئی۔‘‘ اس کے علاوہ پولیس نے بتایا کہ شہریوں کے خلاف کورونا وائرس کے حفاظتی احکامات کی خلاف ورزی کے سلسلے میں کوئی مجرمانہ شکایات درج نہیں کی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں