چینی رپورٹ پر وفاقی حکومت کے دو اہم وزرا آمنے سامنے آ گے

اسلام آباد: مراد سعید کی اسد عمر سے تلخ کلامی  ہوگئی وزیراعظم نے مزید بحث سے روک دیا۔

زرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں مراد سعید نے اسد عمر  سے کہا کہ چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت آپ نے دی، ذمہ داری لیں، معاد سعید نے الزام لگایا کہ اکتوبر اور دسمبر 2018 میں 11 لاکھ چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت اسد عمر نے دی۔ وفاق نے سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ بھی آپ کا ہی تھا ،  مراد سعید نے کیا کہ میڈیا اور عوام  وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کو زمہ دار ٹھہرا رہے ہیں، آپ بطور چیرمین ای سی سی کے زمہ داری قبول کریں۔

اسد عمر نے مراد سعید کو مخاطب کرتے ہوئے صاف صاف جواب دیا کہ مراد ای سی سی سے منظوری میں نے اکیلے نہیں دی اس فیصلے میں آپ سمیت دیگر ای سی سی ممبران شامل ہیں۔  ای سی سی نے شوگر ایڈوائزری بورڈ کی سفارش پر یہ منظوری دی تھی۔

اسد عمر نے کہا کہ
ہم کسی ایک پر اس منظوری کا الزام نہیں لگا سکتے، وزیراعظم نے معاملے پر مزید بحث کرنے سے روک دیا۔

چینی رپورٹ پر ہونے والے فرانزک آڈٹ میں دلچسپ موڑ آگیا، 70 فیصد تک چینی افغانستان کو ایکسپورٹ ہونے کا انکشاف ہوا. وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پتہ کروایا جائے کہ کیا واقعی 70 فیصد تک چینی طورخم کے ذریعے افغانستان ایکسپورٹ ہوئی۔

اگر ایسا ہوا تو کسٹم کے جعلی کاغذات بنا کر حکومت کو دھوکا تو نہیں دیا جا رہا، وزیراعظم نے دو اہم وزرا کو بھی اس معاملے کی تحقیقات کا ٹاسک سونپ دیا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment