ای سی سی کی طرف سے بڑی خوشخبری: شعبہ توانائی کے لیے 3 کھرب روپے کا بیل آؤٹ پیکج منظور

 

اسلام آباد: اپنے خصوصی اجلاس میں ای سی سی نے فوری واجبات کو حل کرنے اور آئل کمپنیوں کے غیر ملکی زر مبادلہ کے نقصان کو پورا کرنے کے لیے 3 کھرب روپے کے بیل آوٹ پیکج کی منظوری دے دی۔ بیل آؤٹ پیکج کے تحت گردشی قرضوں کے اسٹاک کی ریٹائرمنٹ کے لیے جو200 ارب روپے اسلامی سکوک بانڈ رکھے گئے تھے اب فوری نقدی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ای سی سی نے با ضابطہ طور پر جون 2020 تک بجلی کے صارفین کے بلوں میں ماہانہ اور سہ ماہی فیول ایڈجسٹمنٹس کو موخر کرنے کی منظوری دے دی۔

ای سی سی اجلاس میں بتایا گیا 60 ارب روپے ایندھن فراہم کرنے والوں کو اور بینکوں سے لیے گئے قرضوں کی مدت مکمل ہونے پر ادا کیے جائیں گے۔

مزید یہ کہ کمیٹی نے پاور ڈویژن کی درخواست پر کمرشکل بینکس سے مختصر مدت یعنی 9 سے 12 ماہ کے قرضوں لینے کے لیے ایک کھرب روپے کے سنڈیکیٹڈ ٹرم فنانس فیسیلیٹی (ایس ٹی ایف ایف) کی منظوری بھی دی۔

محکمہ توانائی نے ای سی سی کو آگاہ کیا کہ فروری میں تقسیم کار کمپنیوں کی وصولیاں 91 سے 92 فیصد تھیں جو مارچ میں کم ہو کر 62 سے 63 فیصد پر آگئی جبکہ توانائی کی طلب میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔

ایک اندازے کے مطابق توانائی کی کمپنیوں کو جون تک 10 ارب روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے لیکن گنجائش کی ادائیگیاں بجلی گھروں کو کرنی ہوں گی۔

اسکے علاوہ اضافی مالی تفاوت کو ختم کرنے کے لیے ای سی سی سے وزیراعظم کے ہنگامی فنڈ سے 3 ماہ کی اقساط میں 67 ارب روپے فراہم کرنے کی درخواست کی گئی۔

 علاوہ ازیں ای سی سی نے رواں مالی سال کے لیے 4 ضمنی تکنیکی گرانٹس کی منظوری بھی دی جس میں ا سپیشل سکیورٹی ڈویژن (ایس ایس ڈی) ساوتھ فیز ون کے 11 ارب 48 کروڑ30 لاکھ روپے، پبلک سروس کمیشن کے لیے 16 کروڑ روپے، پائیدارترقی اہداف پروگرام کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے اور اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) کے لیے 46 کروڑ 82 لاکھ روپے کی گرانٹس شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment