پیرس کے اولڈ ایج ہوم کی خوفناک کہانی؛ بوڑھے افراد کی لاشیں کمروں میں پڑی سڑنے لگیں


پیرس : اولڈ ہوم جارڈن باہر سے تو بالکل پرامن اور عام نظر آتا ہے،، لیکن اس میں ایک خوفناک کہانی چھپی ہے۔
عالمی خبر رساں ایجنسی نے یہاں ایک خفیہ آپریشن کیا، تو معلوم ہوا کہ اس اولڈ ہوم میں 30 افراد کرونا سے مر چکے ہیں۔جبکہ باقی معمر افراد میں بھی کرونا کی تشخیص ہوئی ہے، لیکن ان کی نگہداشت درست نہیں ہو رہی۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ملازم نے بتایا کہ ان کے پاس حفاظتی سامان نہیں جس کی وجہ سے علاج میں مسئلہ ہے،لیکن یہاں حالات یہ ہے کہ معمر افراد کمروں میں پڑے پڑے ہی مر گئے اور ان کی کسی نے خیریت نہ پوچھی،اب بھی کئی معمر افراد کی لاشیں کمروں میں موجود ہیں، لیکن اٹھانے والا کوئی نہیں۔
پورے اولڈ ہوم میں بدبو موجود ہے، بزرگ افراد تنہائی میں پڑے موت کا انتظار کر رہے ہیں،،لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔
بیشتر عملہ بھی بہانے بنا کر چھٹیوں پر موجود ہے، ایسے میں فوج کی طبی امداد بھی نہیں پہنچی،جو اب صرف لاشیں اٹھانے کا کام ہی کر رہی ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.