وائے ڈی اے کا ڈاکٹر ظفر مرزا کے خلاف چیف جسٹس کوخط ،کریمنل کاروائی کا مطالبہ


اسلام آباد: وائے ڈی اے کی جانب سے چیف جسٹس کو ڈاکٹر ظفرمرزا کے خلاف خط لکھا گیا ہے۔

  لکھے گئے خط کے متن  کے مطابق معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا انتہائی کرپٹ آدمی ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث ہیں۔ ظفر مرزا نے من پسند شخصیات کو ہیلتھ منسٹری میں اعلی عہدوں سے نوازا۔

خط کے مطابق کورونا وائرس کی آڑ میں 20 ملین ماسک اسمگل کروائے گئے۔ ظفر مرزا نے بھارت سے ٹائیفائید کی ویکسینز منگوا کر 2.5 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ ظفر مرزا کیخلاف الزامات کی تحقیقات کر کے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

خط میں کہا گیا کہ پاکستان میں اب تک 104 ڈاکٹرز اور کئی ہیلتھ ہروفیشنلز کورونا وائرس کا شکار بن چُکےہیں۔ نشتر ہسپتال ملتان میں 27 ڈاکٹرز پیرامیڈیکس میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔

ہسپتال میں کئی کورونا رپورٹس کو ابھی تک منظر عام پر نہیں آنے دیا گیا۔ کراچی میں بھی اب تک 40 ہیلتھ کئیر سٹاف میں مہلک مرض کی تشخیص ہوچکی ہے۔ میڈیکل سٹاف میں وائرس سامنے آنے کی سب سے بڑی وجہ غیر معیاری حفاظتی سامان کا ہونا ہے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر ظفر مرزا ”نیٹ ورک آف کنزیومر پروٹیکشن” کے نام سے ایک این جی او چلا رہے ہیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا مصر میں ڈبلیو ایچ او کے کنٹری ہیڈ کبھی بھی نہیں رہے۔ وزیر اعظم کے 72 گھنٹوں میں ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے حکم پر کم ہونے کی بجائے زیادہ کی گئیں۔ ڈاکٹر ظفر مرزا موجودہ حکومت کے لیے بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔

خط کے متن کے مطابق ڈاکٹر ظفر مرزا نے چیف جسٹس کیخلاف سوشل میڈیا مہم شروع کر رکھی ہے۔ ظفر مرزا کی جانب سے پی ایم ڈی سی کو بھی پی ایم سی سے بدلنے کی کوشش کی۔

ینگ فارماسیسٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے خط کی کاپی وزیر اعظم،صدر مملکت اور آرمی چیف سمیت دیگر اعلی حکام کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.