گندم کی کٹائی شروع، حکومت پیداوار کا تخمینہ لگانے میں ناکام

گندم کی پیداوار کا تخمینہ نہ ہونے کی صورتحال میں گندم کی خریداری کے اہداف پورے نہ ہونے کا امکان ہے۔


گندم کی کٹائی شروع ہونے کے باوجود ابھی تک وفاقی حکومت ملک میں گندم کی پیداوار کا تخمینہ لگانے میں ناکام ہو گئی۔ گندم کی پیداوار کا تخمینہ نہ ہونے کی صورتحال میں گندم کی خریداری کے اہداف پورے نہ ہونے کا امکان ہے۔ صوبوں کی جانب سے فصلوں کے نقصانات سے متعلق بھی وفاق کو کوئی رپورٹ نہیں بھیجی جا سکی۔
گندم کی فصل کی پیداواراور تخمینہ کا اندازہ لگانے کے لئے وفاق نے پیر کو صوبوں کے ساتھ اجلاس طلب کر لیا ہے۔ وزارت قومی تحفظ خوراک و تحقیق کےمطابق اب تک صرف ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری ہو سکی ہے۔ وزارت تحفظ خوراک و تحقیق کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ملک میں گندم کی کٹائی شروع ہو چکی ہے اور تین روز سے پنجاب میں بھی گندم کی خریداری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ اس سے قبل سندھ میں گندم کی کٹائی کے دوران سندھ حکومت اور پاسکو گندم کی خریداری کر رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق گندم کی فصل کے نقصانات کے حوالے سے صوبوں سے وفاق نے رپورٹ مانگی تھی۔ اس کے علاوہ صوبوں کی جانب سے یکم اپریل تک فصل کے نقصانات سے متعلق رپورٹ مانگی جاتی ہے، مگر اس سال گندم کے نقصانات سے متعلق صوبوں کی جانب سے رپورٹ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے تاحال وفاق کے پاس گندم کی فصل کو ہونے والے نقصانات کے متعلق معلومات موجود نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق پہلے بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں ٹڈی دل کی جانب سے حملہ کیا گیا اور اس کے دوبارہ حملے سے بچنے کے لئے ملک میں ٹڈی دل کے حوالے سے ایمرجنسی لگائی گئی۔ اس کے علاوہ جب اب گندم تیار ہے تو پنجاب کے مختلف علاقوں میں تیز بارشوں اور ژالہ باری کی وجہ سے فصل کو نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی وجہ سے گندم کی فصل کا تخمینہ حکومت کے پاس موجود نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق گندم کی فصل کی پیداوار اور تخمینہ کا اندازہ لگانے کے لئے وفاق نے پیر کو صوبوں کے ساتھ اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں گندم کی فصل کی صورتحال، خریداری اور صوبوں کے اہداف کا جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے حکومت نے گندم کی خریداری کا ہدف 82 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کیا ہے جس کے مطابق پنجاب 45 لاکھ میٹرک ٹن، سندھ 14 لاکھ میٹرک ٹن، بلوچستان ایک لاکھ میٹرک ٹن اور پاسکو کا ہدف 18 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.