کنسٹرکشن انڈسٹری کیلئے خوشخبری: کابینہ سے مراعاتی پیکیج کی منظوری مل گئی

اسلام آباد: کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے سیمنٹ اور اسٹیل کے علاوہ تمام میٹریل پر کوئی ودہولڈنگ ٹیکس نہیں ہوگا۔

تفصیل کےمطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001میں ترامیم  کر دی گئی ہے۔بلڈرز اور ڈویلیپرز کے لئے فکسڈ ٹیکس رجیم کر دیا گیا ہے۔فی مربع فٹ، مربع گز کی بنیاد پر فکس ٹیکس کا نفاذ ہوگا۔

سیمنٹ اور اسٹیل کے علاوہ تمام مٹیرئیل پر کوئی ودہولڈنگ ٹیکس نہیں ہوگا۔سروسز(خدمات) کی فراہمی پر ودہولڈنگ ٹیکس سے استشنی ہوگا۔ بلڈرز اور ڈویلپرز  جتنا ٹیکس ادا کریں گے اس کا دس گنا  آمدن /منافع  کا  کریڈٹ وصول کر سکتے ہیں۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے کم لاگت والے گھروں کے لئے ٹیکس کو نوے فیصد تک کم کر دیا گیا ہے۔

اس سکیم کا اطلاق 31دسمبر2020سے پہلے شروع کیے جانے والے منصوبوں اور موجودہ نامکمل منصوبوں پر ہوگا جو اس سکیم کے تحت ریجسٹرڈ ہوں

 نئے اور جاری منصوبوں کو آئی آر آئی ایس (IRIS) ویب پورٹل کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر ریجسٹر کرانا ہوگا۔ جاری منصوبوں کو اپنی تکمیل کی شرح کے بارے میں خود بتانا ہوگا اورنئے فکسڈ ٹیکس سکیم کے تحت  بقیہ ماندہ حصے کی تکمیل کےلئے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اس سکیم کے تحت کمپنیوں کی جانب سے شئیر ہولڈرز کو ادا کیے جانے والے ڈیویڈنڈز (Dividends)  پر ٹیکس نہیں ہوگا۔

سیکشن 111 (آمدنی کی وضاحت)سے استشنی ملے گا۔سیکشن 111کا اطلاق بارے اس سیکشن کی دفعات کا اطلاق  نئے منصوبوں میں پیسے یا زمین کی صورت میں کیے گئے کیپیٹل انویسٹمنٹ (بنیادی سرمایہ کاری) پر نہیں ہوگا بشرطیکہ یہ شرائط پوری ہوں۔

کیش سرمایہ کی صورت میں رقم 31دسمبر 2020یا اس سے پہلے کسی نئے بنک اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی ہو۔زمین کی سرمایہ کاری کی صورت میں شرط یہ ہے کہ وہ زمین اس ترمیم کے نفاذ کے وقت اس شخص کے نام ہو۔

منصوبہ 31دسمبر2020 تک شروع کر دیا جائے اور 30ستمبر2022تک مکمل کر لیا جائے۔ منصوبے کو مکمل تصور کیا جائے گا اگربلڈر کے معاملے میں گرے اسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ) 30ستمبر2022تک مکمل کر لیا جائے۔

 کسی مجرمانہ فعل کے نتیجے میں حاصل کی جانے والی آمدنی، منی لانڈرنگ،  بھتہ خوری یا دہشت گردی سے متعلقہ رقم پر استشنیٰ نہیں ہوگا۔ذاتی رہائش پر کیپیٹل گین (سرمایہ جاتی منافع)  سے ایک دفعہ کی ٹیکس چھوٹ ملے گی۔  گھر کی صورت میں 500مربع  گز سے زیادہ نہ ہو  جبکہ فلیٹ کے معاملے میں 4000مربع فٹ سے بھی زائد نہ ہو۔

تعمیرات کے شعبے کو انڈسٹری کا درجہ دیا گیا ہے۔کنسٹرکشن اور لینڈ ڈویلیپمنٹ کے لیے پلانٹ اور مشینری کی درآمد کے لئے وہی سہولیات ملیں گی جو دیگر انڈسٹری کو میسر ہیں

جائیدادوں کی نیلامی پر ایڈوانس ٹیکس دس فیصد سے گھٹا کر پانچ فیصد کر دیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی حدود میں صوبہ پنجاب کی طرز پر کنسٹرکشن سروسز کی مد میں سیل ٹیکس کو گھٹا کر صفر کر دیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کی حدود میں کیپیٹل ویلیو ٹیکس (CVT) سے استشنیٰ جیسا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں اعلان کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment