کورونا لاک ڈاون میں خاموش بہار کی مستیاں

جب سے کورونا کا معاملہ چلا ہے تب سے ہر بات میں اس خبیث بیماری کا تذکرہ ضرور ہوتا ہے کیونکہ اس عجیب طرز کی بیماری نے شہر کی رونقیں جو چھین لیں۔ میں باقی شہروں کی تو نہیں لیکن اسلام آباد کی بات کر رہی ہوں اس شہر کو شہر حسن کے ساتھ شہر خاموشاں کا درجہ بھی کہیں نہ کہیں حاصل ہے۔ مجھے یاد ہے کراچی سے میری دوست سیمی جب بھی اپنے شوہراور بچوں سمیت اسلام آباد آتی تو کہتی یہاں کتنی خاموشی ہے کراچی میں تو اتنا شور ہوتا ہے چہل پہل ہوتی ہے رونق ہوتی ہے کہ رات میں بھی لگتا ہے دن کا سماں ہے حالانکہ سیمی کی کالج تک عمر تو اسلام آباد میں گزری لیکن شادی کے بعد اسے بھی کراچی سے محبت ہوگئی شوہر کی وجہ سے۔ آپ سوچتے ہونگے میں بہار کی رنگینیوں پر لکھنے جا رہی ہوں یا اپنی دوست پر یا پھر اس شہر پر جس سے مجھے عشق ہے تو جناب ہر ایک چیز کا کچھ نہ کچھ آپس میں ربط کوئی تعلق ضرور ہوتا ہے۔ خیر میں اپنی دوست کی بات پر اکثر مسکرا دیتی تھی کہ دیکھو چہل پہل رونق سب یہاں بھی ہوتا ہے لیکن یہاں کے لوگ دن بھر حسین رتوں میں رونق لگاتے ہیں کیونکہ دن کو ہی تو خوبصورتی دیکھنے لائق ہوتی ہے اور وہ کسی طرح کچھ نہ کچھ قائل بھی ہوتی اور ٹھنڈی آہ بھرتی کہ ہائے میرا اسلام آباد یہاں کے نظاروں کی اپنی بات ہے یہاں کی خوبصورتی کا اپنا ہی مزہ ہے، لیکن اب وہ دن کی رونقیں بھی ماند ہیں رونقیں نہیں چہل پہل نہیں کیونکہ کورونا لاک ڈاوَن جو کب سے منڈلا رہا ہے

اسلام آباد میں باقی موسم تو اپنی جگہ لیکن بہار میں یہ شہر انتہائی حسین ہو جاتا ہے۔ سبز مارگلہ پہاڑیوں پر جب بادل منڈلانے لگتے ہیں تو ہر جانب سے اب تو سیلفیاں اور دیگر تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنتی ہیں کچھ اس طرز کے جملوں کے ساتھ کہ Today Islamabad OMG، Wao، My Beautiful Islamabad، اتنا ہی نہیں سورج کی اٹھلاتی کرنوں پر بہار کے رنگ برنگے مستیاں کرتے پھول بھی ہر نگاہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ بچپن میں تو ایک لال گلاب کا پتہ تھا پھر جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے تو پتہ چلا جناب گلاب کی ہی کئی قسمیں ہیں اور تو اور نیلے ، پیلے ، سبز، لال، جامنی، نارنجی بہت سارے قسموں کے پھول ہیں جنہیں بہار میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے

آج کل بہار کا موسم چل رہا ہے بہار اپنی جوبن کے گیت گا رہی ہے یہ میں ہی نہیں کہہ رہی ہر منظر کہہ رہا ہے۔ ابھی کل کی ہی بات ہے لاک ڈاوَن میں وہی اپنی ڈیوٹی کے لیے گھر سے نکلی تو کیا کمال کا منظر تھا ابھی پھول تو نہ دیکھے تھے لیکن سبز مارگلہ کی پہاڑیوں پر سفید روئی کے گالوں سے بادل مستیوں میں مگن تھے اور کہیں نیلا صاف اجلا سا آسمان ہر منظر پر سحر طاری کر رہا تھا میں بھی منظر میں کھو گئی۔ میں دیر تک یہ منظر دیکھتی دیکھتی اسلام آباد کی سیر کرتی رہی آخر ارادہ باندھ لیا کہ آج کچھ نیا کرتے ہیں اس حسین رْت کی شادابی پر کچھ بناتے ہیں یہی سوچتے مارگلہ پہاڑیوں کو تھوڑا اور قریب سے دیکھنے کا دل کیا تو فیصل مسجد کی راہ لی بس کیا بتاوَں سبزہ کس قدر کھلا کھلا سا تھا کیا دلکش منظر تھا راستے میں بعض جگہ ایسے درخت نظر آئے  جن پر سبز اور لال جھومر کی مانند پھول تھے میری محبت اپنے اس شہر حسن کے لیے اور شدت پکڑنے لگی ایسا اس لیے بھی کیونکہ سچ ہے فضائی آلودگی میں اس شہر کی خوبصورتی تو ہوتی تھی لیکن نکھری نہیں ہوتی تھی۔ خیر فضائی آلودگی پر زیادہ بات نہیں کرونگی میں فیصل مسجد سے گھومتے گھومتے چک شہزاد چلی گئی کیا منظر تھا کیا دلفریبی تھی بہار کی جامنی پھولوں کا قالین بچھا تھا جیسے جس مقام پر میں تھی وہاں سے بھی مارگلہ کی یہ سبز پہاڑیاں قدرے صاف واضح دکھائی دے رہی تھی نیلے آسمان پر روئی کے گالوں سے بادل تھے چاروں جانب سبزہ ہی سبزہ اور بیچ میں یہ جامنی پھول قدرت کا ایک الگ ہی حسن تھا۔  قدرت کا ایک الگ ہی نظارہ تھا کھو گئی میں بھی اس منظر میں دل بہت کیا کہ یہاں پر سکون ماحول میں بیٹھ  کر آج کچھ شعر و شاعری کی جائے کچھ بھی محبت بھرا لکھا جائے میں منظر دیکھ کے سوچتی رہی کورونا وائرس نہ ہوتا لاک ڈاوَن نہ ہوتا تو بہار یوں خاموش چپکے چپکے نہ سفر طے کرتی اس پر کئی گیت لکھے جاتے کئی اشعار لکھے جاتے۔ 

دن چڑھتا جا رہا تھا سورج کی کھلکھلاتی سی کرنیں ٹھنڈی پون کے ساتھ جیسے پھولوں کو اور بھی مست کر رہیں تھیں۔ بہار کو جیسے ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سورج کی کرنوں سے داد مل رہی تھی کہ اس بار تو کمال کا نکھار ہے کمال کا حسن ہے۔ پھر میں نے یہ بھی سوچا قدرت کی مہربانی ہے اپنے اس شہر کے لیے محبت بھری دعا کرتی تھی یا اللہ اس شہر کو بری نظر سے بچا یا اللہ میرے حسین شہر کو ایسا ہی خوبصورت رکھنا تب ہی شاید اللہ نے سن لی دعا اور کورونا کے ہی بہانے شہر کی شادابی دلکشی خوبصورتی لوٹا دی۔ بہار خاموش ہی سہی پر ہے تو بہت حسین سبحان اللہ سبحان اللہ زبان ورد کرنا چاہتی ہے اور تمام مناظر دیکھ کر بس ایک ہی خیال آیا
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اللہ کی دی نعمتوں کی قدر کیجیے  بہار ان نظروں کی منتظر ضرور ہے جو اس پر تعریفی کلمات لکھیں رب کی بڑائی بیان کریں۔  کچھ پیار بھرا پیغام لکھیں لیکن شاید اس حسین رت کو دوبارہ ماحول کی پراگندگی اور اپنی شادابی کھونے کا بھی ڈر ہے تب ہی تو بس چپکے چپکے خاموش بہار اپنا سفر طے کر رہی ہے۔ سوچیے اور اپنے آس پاس کے ماحول کی حفاظت کیجیے ان حسین رْتوں کی قدر کیجیے۔ شکریہ

متعلقہ خبریں

Leave a Comment