کس نے کورونا بنانے والی لیبارٹری کو فنڈنگ کی؟ بڑے انکشاف

کچھ دن قبل امریکی حکومت نے یہ انکشاف کیا تھا  کہ کورونا وائرس کو ممکنہ طور پر چین کے شہر ووہان کی ایک لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے فاکس نیوز، سی این این اور یاہو نیوز نے اپنی رپورٹس میں بتایا تھا کہ امریکی حکومت نے شکوک بڑھنے کے بعد خفیہ اداروں کو معاملے کی تفتیش کا حکم دے دیا۔

رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دن قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ امریکی حکومت اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ کہیں کورونا کسی لیبارٹری میں تو تیار نہیں ہوا۔

فاکس نیوز نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ کورونا وائرس کو چین کے شہر ووہان کے ایک انسٹی ٹیوٹ میں تیار کیا گیا۔۔

ایسی رپورٹس سامنے آنے کے بعد اگرچہ امریکی حکومت نے معاملے کی تفتیش شروع کردی تاہم سی این این نے بتایا تھا کہ امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو یقین ہے کہ کورونا کسی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا۔

امریکی حکومت کی جانب سے تفتیش شروع کیے جانے کے بعد چینی حکومت نے بھی ایک بار پھر بیان دیا تھا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) بھی کہہ چکا ہے کہ کورونا وائرس لیبارٹری میں نہیں بنا۔

اس سے قبل بھی امریکا اور چینی حکومتیں ایک دوسرے پر کورونا وائرس کے حوالے سے الزامات لگاتی آ رہی ہیں تھیں اور اب خبر سامنے آئی ہے کہ ممکنہ طور پر جس چینی ادارے کی لیبارٹری میں کورونا کو بنایا گیا، اسی ادارے کو کینیڈا اور امریکا کی حکومتوں نے فنڈز بھی فراہم کیے۔

رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے میڈیکل سائنس و صحت کے اداروں نے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کو جدید ترین حیاتیاتی تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کیے جب کہ مارچ کے آغاز میں ہی کورونا کے دنیا بھر میں پھیلاؤ کے آغاز کے وقت بھی کینیڈین حکومت نے اسی چینی ادارے کے ساتھ کورونا سے متعلق تحقیقات کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

رپورٹ میں کینیڈین حکومت کی جانب سے ووہان انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اعلان کے بیان کو بھی شامل کیا اور بتایا گیا کہ کینیڈین حکومت نے چینی ادارے کو کم سے کم 30 لاکھ امریکی ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment