دواساز کمپنیوں نے کام بند کر دیا، ادویات کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ


کراچی: پاکستان فارما سوٹیکل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن نے دواساز اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس کے سبب ادویات  کی فراہمی معطل ہونے سے مریضوں کی مشکلات بڑھنے کا خدشہ ہے۔

نیوز ویب سائٹ نیوز ٹائم اُردو کی ایک رپورٹ کے مطابق ترجمان پاکستان فارما سوٹیکل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن  نے اس بارے الزام عائد کیا کہ کورونا کی مشکل ترین صورتحال میں دواسازی کی صنعت کام کر رہی ہے لیکن سندھ حکومت غیرضروری طور پر تنگ کر رہی ہے۔ پاکستان فارما سوٹیکل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے گزشتہ روز دواساز کمپنیاں بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

دوا ساز کمپنیوں نے کراچی میں موجود تمام دوا ساز کمپنیوں نے آج پیداواری یونٹ بند کررکھے ہیں اور ملازمین کو چھٹی دے دی گئی ہے۔صنعتی علاقے کورنگی میں فارما سوٹیکل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے صدر نے دعویٰ کیا کہ مرتضیٰ وہاب نے بند کی گئی کمپنیوں کو کھولنے کی یقین دہائی کرائی ہے۔

پاکستان فارماسوٹیکل مینوفیکچرزایسوسی ایشن نے الزام عائد کیا ہے کہ سندھ حکومت اور انتظامی مشنری صنعتکاروں اور دوا سازی کمپنیوں کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں کرکے نقصان پہنچارہے ہیں۔

خیال رہے کہ ادویات بنانے والی کمپنیاں آدم جی فارما لی مینڈوزا اور ٹبالٹی کو گزشتہ روز قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر سندھ حکومت نے سیل کیا تھا جس پر متاثرین نے احتجاج کیا تھا۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.