آئی پی پیز رپورٹ: ملکی خزانے کو 4ہزار802 ارب روپے سے زائد کے نقصان کا انکشاف

اسلام آباد: انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کےسابق چیئرمین محمدعلی کی سربراہی میں قائم9 رکنی تحقیقاتی ٹیم نے تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی جس میں قومی خزانےکو4ہزار802 ارب روپے سے زائد کے نقصان کا انکشاف ہوا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ20سال سے وزارت بجلی اورنیپراکی ناقص کارکردگی اورکوتاہیاں پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آئی پی پیز نے زیادہ بجلی پیداواری ٹیرف حاصل کرنے کیلئے نیپرا کو غلط معلومات دیں۔ کمرشل آپریشنز ڈیٹ ٹیرف کے لیے غلط معلومات فراہم کی گئیں۔ 2002 پاور پالیسی والے آئی پی پیز نے فیول کی مد میں 210 ارب روپے کی اضافی وصولی کی۔ 2002 کی پاور پالیسی کے تحت لگنے والے پاور پلانٹس کو 105 ارب روپے کی اضافی ادائیگی کی جا چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق طریقہ کار کو درست نہ کیا گیا تو آئندہ یہ کمپنیاں 1ہزار 23 ارب روپے کا ناجائز فائدہ اٹھائیں گی۔ 2002 کی پاور پالیسی کے تحت لگنے والے پاور پلانٹس کو 105 ارب روپے کی اضافی ادائیگی کی جا چکی ہے۔2002۔ 1994 کی پاور پالیسی کے تحت قائم 16 آئی پی پیز نے مجموعی طور پر 52 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی۔گزشتہ 25 سالوں میں ان آئی پی پیز نے اپنی سرمایہ کاری پر 40 سے 79 فیصد منافع حاصل کیا۔
رپورٹ میں کوئلے اور شوگر مل پلانٹس بھی شامل ہیں۔ 2015 کی پاور پالیسی کے تحت کوئلے پر چلنے والے دو پلانٹس لگائے گئے۔ ایک پلانٹ نے دو سال میں سرمایہ کاری شدہ رقم کا 71 فیصد اور دوسرے نے 17 فیصد وصول کر لیا۔ شوگر ملوں نے گنے کے پھوک سے بجلی پیداوار 45 فیصد ظاہر کی حالانکہ پیداوار زیادہ تھی۔ شوگر ملوں نے بجلی پیداوار کم ظاہر کر کے  ارب 33 کروڑ روپے کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کے پاس مہنگی بجلی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے صرف دو طریقہ کار ہیں۔ ان کمپنیوں کے ساتھ دوبارہ سے بجلی خریداری کے معائدے کیے جائیں۔ آئی پی پیز اگر مذاکرات پر آمادہ نہ ہوں تو فوری طور پر انکے فارنزک آڈٹ کا حکم دیا جائے۔ بجلی خریداری معائدے صرف خریدو اور پیسے دو کی بنیاد پر کیے جائیں۔ 2002 پالیسی والے 11 پلانٹس کو ریٹائر کرنے سے حکومت کو 74 ارب روپے کی بچت ہوگی۔
محمدعلی کی سربراہی میں قائم9 رکنی تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ میں یہ بھی بتا دیا کہ وزارت بجلی کو کس طرح درست کیا جائے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ وزارت میں بجلی فنانس اکاؤنٹنگ اور قانون کے ماہرین کی تعیناتی کی جائے۔پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ اور متبادل ذرائع توانائی بورڈ کو وزارت میں ضم کر دیا جائے۔ بجلی کے ٹرانسمیشن نظام کو بہتر بنانے کیلئے سرمایہ کاری کی جائے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment