چینی شوگر کمیشن تحقیقات:ایف آئی اے کے مخبر بارے میں اہم انکشافات سامنے آ گئے

اسلام آباد: سجاد باجوہ 1990 میں پبلک سروس کمیشن کے امتحان کے بغیر اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھرتی ہوئے۔ گزشتہ سال انہیں اپنے ہی محکمے کے خلاف منفی پراپیگنڈا کے الزام میں لاہور سائیبر کرائم سے ہٹا کر ہیڈ کوارٹر کلوز کردیا گیاتھا۔ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے ان کے خلاف انکوائری شروع کی جو اثرورسوخ کے باعث ابھی تک مکمل نہیں ہوسکی تھی۔ نواز شریف دور میں انہیں خلاف قانون ملازمت حاصل کرنے کے الزام میں برطرف کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے اہم ذرائع کا دعوی ہے کہ سجاد باجوہ 7 سال کینڈا میں بھی رہے اور ان پر مبینہ طور ہروہاں کی شہریت کا بھی الزام ہے۔ سجاد باجوہ نے اپنی پوری مدت ملازمت میں کبھی کسی ہائی پروفائل کیس کو لیڈ نہیں کیا.سجاد مصطفی باجوہ کے خلاف مبینہ طور پر انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے بھی الزامات ہیں۔ایف آئی اے کے کسی بھی شعبے میں سجاد باجوہ کی تعیناتی مدت 2 سے 3 ماہ زیادہ نہیں رہی۔

انکوائری کے بعد ایف آئی اے افسر سجاد باجوہ اپنے خلاف مخبری کے تمام الزامات مسترد کر دیئے ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھ دیا۔ سجاد باجوہ کا موقف ہے کہ تحقیات کے دوران ایف بی آر اور ایس ای سی پی کے افسر سوال اٹھانے پر ناراض ہوئے ہیں۔شوگر ملز کی انتظامیہ سے متعلقہ ریکارڈ کے لئے رابطے میں تھا۔ سجاد مصطفی باجوہ کا کہنا ہے کہ میں ایمان دار افسر ہوں میرا کام کرنے کا اپنا انداز ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے کو تمام حقائق سے اگاہ کر دیا ہے۔

ذرائع ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ایف بی آر اور ایس ای سی پی کے متعلقہ افسروں نے کیس کی تحقیقات میں کوئی ایکٹیو کرادار ادا نہیں کیا۔ ایف آئی اے افسر نے ڈی جی ایف آئی اے کو خط لکھے کی تصدیق کر دی۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment