کیا اب ‘مین ہول’ کے ڈھکن چرانے پر بھی سزائے موت ہوگی؟

بیجنگ: چین میں اعلی عدلیہ اور وزارت برائے عوامی تحفظ نے مشترکہ طور پر تحریر کردہ ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گٹر کے ڈھکنوں کو توڑنے والا یا پھرغائب کرنے والا شخص ایک طرف تو ٹرانسپورٹ میں رکاوٹ ڈالتا ہے تو دوسری جانب عوام کی جانوں کو بھی خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ اسی لیے ان دونوں جرائم کی بنا پر اسے سزائے موت دی جائے۔ دوسری جانب یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ مین ہول کھلا رہے تو یہ ایک کار اور ٹرام کو تباہ کرنے یا الٹانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدم کو عوامی پذیرائی مل رہی ہے۔

چین میں عوامی تحفظ کے سب سے بڑے ادارے کے افسران چن نے کہا کہ ’جرائم میں اکثر مین ہول کے ڈھکنوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے حالانکہ اس کا انسانی زندگی اور جائیداد کے تحفظ سے براہِ راست تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈھکن چرانے کے عمل کو محض عام جرم نہیں کہا جاسکتا ہے اور اس کے مرتکب کو سخت ترین سزا دینی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں