وزیراعظم عمران خان کی وفاقی کابینہ میں ایک بار پھر ردوبدل فردوس عاشق اعوان فارغ، عاصم سیلم باجوہ معاون خصوصی اطلاعات مقرر


وفاقی کابینہ میں اکھاڑ پچھاڑ،فردوس عاشق اعوان فارغ، عاصم سیلم باجوہ معاون خصوصی اطلاعات مقرر۔

تفصیلات کے مطابق اس سے قبل رواں سال 6 اپریل کو چینی اسکینڈل رپورٹ آنے پر کابینہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔وفاقی وزرا خسرو بختیار، حماد اظہر و دیگر وفاقی وزرا کے قلمدان تبدیل کیے گئے۔ وزارت فوڈ سیکیورٹی کا قلم دان خسرو بختیار سےواپس لے کر سید فخر امام کو دے دیا گیا۔ حماد اظہر کو وزارتِ صنعت و پیداوار اور اقتصادی امور کا قلمدان خسرو بختیار کو سونپ دیا۔6 اپریل کو ہی ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کو ہٹا کر امین الحق کو یہ قلمدان دے دیا گیا ہے۔مشیر عبدالرزاق سے صعنت کا قلم دان واپس لیا جبکہ بابر اعوان کو پارلیمانی امور کا معاون خصوصی مقرر کردیا۔سینیٹر اعظم سواتی کو وزارت انسداد منشیات کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

مشیر شہزاد ارباب کو ان کے عہدے سے ہٹادیا پھر 13 اپریل کو انھیں معاون خصوصی مقرر کردیا تھا۔6 اپریل کو ہی وزیرِ پارلیمانی امور اعظم سواتی کا قلمدان تبدیل کر کے اُنہیں وزیرِ انسدادِ منشیات کا عہدہ تفویض کیا۔شہریار آفریدی سے وزیر مملکت برائے انسدادِ منشیات کا اضافی قلمدان واپس لے لیا۔10 اپریل کو ایک روز بعد ہی وزیر مملکت برائے سیفران کو وزیر مملکت انسدادِ منشیات کا اضافی پورٹ فولیو واپس دے دیا گیا۔

اٹھائیس فردوی کو تانیہ ادریس کو معاون خصوصی مقرر کردیاجبکہ 15 فروری کو معاون خصوصی سیاسی امور نعیم الحق انتقال کر گئے۔24 دسمبر 2019 کو معید یوسف کو معاون خصوصی مقرر کرنے کا نوٹی فیکشن جاری کردیاگیا۔چار دسمبر2019 کو معاون خصوصی احتساب شہزاد اکبر کو معاون خصوصی داخلہ کی ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئیں۔

اٹھارہ اپریل 2018 کو اسد عمر نے وزارت خزانہ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تاہم اسد عمر چھے مہینے بعد 18 نومبر 2018 کو دوبارہ کابینہ میں شامل ہوگئے۔ فواد چودھری کو وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی کا قلم دان سونپ دیا۔18 اپریل کو ہی پارلیمانی امور کے وزیر اعجاز شاہ کا محکمہ تبدیل کرکے انھیں ملک کا نیا وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 20اگست 2018 کو وزیراعظم عمران خان کی 16رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا تھا۔تین اکتوبر 2018 کو کابینہ میں توسیع کرکے پانچ وفاقی وزرا اور ایک وزیرمملکت نے کو شامل کیا گیا۔جس کے بعد کابینہ اراکین کی تعداد 30 ہوگئی تھی۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.