ایک اور بھارتی سینک اپنے سینئرز کے خلاف پھٹ پڑا

یوں تو گزشتہ کئی برسوں سے بھارتی فوجیوں کے شکایتی بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکے ہیں جن میں افسروں کے گھر جوتے پالش کرنے سے لیکر افسران کی ذاتی گاڑیاں صاف کرنے، اُن کے گھروں میں کھانا پہنچانے اور گھر کے دیگر کام کروانے حتی کہ اپنی بیویاں سینیئر افسران کو پیش کرنے کے لیے مجبور کیے جانے کی شکایات شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک اور جونیئر بھارتی فوجی نے انکشاف کیا ہے کہ ہرسو میں سے تیس فوجی اور تین سے پانچ لاکھ جوان افسران کے جوتے صاف کرتے ہیں۔
بھارتی قابض فوج کے جونیئر افسران سینیئر افسران کو خوش کرنے کے لیے اپنی بیویاں بطور رشوت پیش کرتے ہیں اور جوانوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ بھی افسران کو خوش کرنے کے لیے اپنی بیویاں پیش کریں۔ جوانوں کی بیویوں سے زبردستی افسران کے سامنے ڈانس کروایا جاتا ہے انکار کی صورت میں بطور سزا ٹرانسفر کر دی جاتی ہے اور جہاں ٹرانسفر کی جائے وہاں پہلے سے فون کر دیا جاتا ہے افسران آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ بھارتی فوجیوں کو افسران کی بیویوں کے احکامات ماننے پڑتے ہیں۔ عملاً افسران کی بیگمات فوج کو چلا رہی ہیں جس کی وجہ سے جوانوں کا مورال شدید ڈاون ہے اور وہ کشمیری مجاہدین کے مقابلے میں کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتے ایک اکیلا مجاہد کئی فوجیوں پر حاوی ہو جاتا ہے۔ افسران فوجیوں کا راشن بیچ دیتے ہیں اور کرپشن کر رہے ہیں بھارتی فوجی افسران سے بدلہ لینے پر تل گئے۔

یہ تمام شکائتیں اِس بات کی دلیل ہیں کہ بھارت کا اپنےفوجیوں کے ساتھ برتاو انتہائی غیرمناسب ہے۔ ہر آئے دن پاکستان کو گیڈر بھبھکیاں دینے والا بھارت دراصل اِس قدر کھوکھلا ہو چکا ہے کہ اپنی فوج اِس کی پہلی ترجیحات میں شامل نہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment