وزارت خزانہ نے ترسیلات زر میں کمی کا ورلڈ بینک کا دعوی مسترد کردیا

رواں سال ترسیلات زر کا حجم 20 سے 21 ارب ڈالرز تک رہے گا یکم جولائی سے بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلات زر بھجوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس لاگو نہیں ہوا ورلڈ بینک کے مفروضوں اور زمینی حقائق میں فرق ہے۔ 

ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ  کا کہنا ہے کہ جولائی سے مارچ تک 17 ارب ڈالرز کی ترسیلات زر موصول ہوچکی ہیں ترسیلات زر میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 6.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ترسیلات زر کو بڑھانے کے لیے مراعاتی اسکیم شروع کی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ورلڈ بینک کے اندازے بے بنیاد ہیں۔ ورلڈ بینک نے حکومتی کوششوں پر غور نہیں کیا کورونا وائرس کے اثرات کا انحصار اس کی شدت اور دورانیے پر ہے ورلڈ بینک نے انتہائی بد ترین حالات میں اپنا دعوی جاری کیا ہے۔ کورونا وائرس سے متعلق زمینی حقائق اور مفروضوں میں فرق ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے یکم جولائی سے بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلات زر بھیجنے پر ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ایف بی آر فنانس بل میں مجوزہ ترامیم کو شامل کرے گا۔ یکم جنوری سے ترسیلات زر کی نئی اسکیم شروع کی جائے گی۔ یکم جولائی سے ترسیلات زر بینک میں بھیجنے پر کوئی ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ ترسیلات زر بڑھانے پر مراعات دی جائیں گی حکمت عملی کے تحت بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلات زر کو بڑھایا جائے گا۔ ترسیلات زرمیں 5 فیصد بڑھانے پر فی ڈالر 50 پیسے مراعات دی جائیں گی۔  10 فیصد ترسیلات  زر بڑھانے پر فی ڈالر 75 پیسے مراعات دی جائیں گی اور 15 فیصد ترسیلا ت زر بڑھانے پر فی ڈالرز ایک روپیہ مراعات دی جائیں گی۔ اس کر علاوہ یکم ستمبر 2020 سے قومی ترسیلات زر وفاداری پروگرام کا آغاز کیا جائے گا. بنکوں،ایکسچینج کمپنیزکوپاکستان سےسرمایہ بھجوانے پرماضی میں دیئے جانیوالےفوائدحاصل رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment