مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ‘ٹوئٹر’ نے لاکھوں اکاؤنٹس بند کر دیے

اسلام آباد: سوشل میڈیا کا استعمال ہماری زندگی میں اہمیت اختیار کر رہا ہے جہاں خبروں اورمعلومات کے لیے دنیا بھر میں کروڑوں افراد آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ ٹوئٹر اور فیس بک اس دور کی مقبول ترین ویب سائٹس ہیں جن کے کروڑوں صارفین دنیا بھر میں موجود ہیں۔ فیس بک پر موجود لوگوں کو اگر ایک ملک کی آبادی کے مطابق چیک کیا جائے تو یہ دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے اور سوشل میڈیا ویب پرحاوی ہو چکا ہے جبکہ جسٹن بیبر، کیٹی پیری اور لیڈی گاگا کے ٹوئٹر فالوورز جرمنی، ترکی، جنوبی افریقہ، ارجنٹائن ، مصر اور کینیڈا کی آبادی سے بھی زیادہ ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہر قسم کی بات کی جا سکتی اور ہر نسل اور رنگ کے لوگ اپنی پسند کے مطابق لوگ ڈھونڈ سکتے ہیں جن کے ساتھ تعلقات بہت بار حقیقی زندگی کے تعلقات میں بدل جاتے ہیں۔

ٹوئٹر ایک مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ہے جس کی تعریف سے ظاہر ہے کہ یہ مختصر طور پر اظہار رائے کی جگہ ہے۔ اس ویب سائٹ پر آپ اپنی رائے کا اظہار ایک سو چالیس حروف میں کرتے ہیں۔ اس پر آپ اپنی پسند کے اداروں اور شخصیات اور کئی دوسری پسند کی چیزوں پر نظر رکھ سکتے ہیں اور یہ دنیا میں ہونے والے حالات و واقعات پر نظر رکھنے کا سب سے بہتر ذریعہ کہا جاتا ہے۔

مگر سماجی رابطوں کی مقبول مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر نے ٹوئٹر ایس ایم ایس سروس بند رکھتے ہوئے خاموشی سے لاکھوں اکاؤنٹس بند کردیئے ہیں۔ گزشتہ برس ستمبر میں ٹوئٹر کمپنی کی جانب سےاعلان کیا تھا کہ صرف چند مقامات کے علاوہ پوری دنیا میں ٹوئٹر ایس ایم ایس سروس یعنی موبائل پیغامات سے ٹوئٹ کرنا بند کردیئے گئے ہیں۔

اس بارے میں ٹوئٹر کمپنی انتظامیہ کی جانب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایس ایم ایس کے ذریعے ٹوئٹر اکاؤنٹس پرحملہ ہونے کا خطرہ ہے جس کی وجہ سےٹوئٹر شیئر ایس ایم ایس سروس پر پابندی برقرار رکھی گئی ہے۔ ٹویٹر صارفین کو اہم پیغامات جیسے اکاؤنٹ لاگ ان اور انہیں مینیج کرنے والے پیغامات تک رسائی ہوگی۔اس بارے واضح رہے کہ ٹوئٹر کمپنی نے یہ قدم اس وقت اٹھایا تھا جب گزشتہ برس ٹوئٹر کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) جیک ڈورسی کا اکاؤنٹ ہیک کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment