کورونا وائرس: کیا امریکی خاتون چین لے کر آئی؟

عالمگیر وبا کورونا وائرس کے پھوٹنے کے بعد سے ہی اس وائرس کے قدرتی یا کسی لیبارٹری میں تیار ہونے کے شکوک و شبہات کی بنا پر امریکہ اور چین میں کولڈ وار جاری ہے۔
تفصیل کے مطابق دونوں ممالک ہی اس وائرس کو لیبارٹری میں بنائے جانے اور دنیا بھر میں اس کے پیھلاؤ کے ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 30 اپریل کو ایک بار پھر دعوی کیا کہ انہیں نومبر 2020 کے صدارتی انتخابات میں شکست دینے کے لیے چین نے یہ وبا پیھلائی۔ دوسری جانب چین نے یہ دعوی کیا ہے کہ اکتوبر 2019 میں ووہان میں فوجی گیمز میں کچھ امریکی کھلاڑیوں نے حصہ لیا وہ ووہان میں کورونا وبا لائے۔ تاہم چین اس کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔ اسی حوالے سے اب ایک خاتون اور ان کے شوہر کے نام سامنے آئے ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ امریکہ سے چین کورونا لائے۔ لیکن یہ حیران کن بات ہے کہ جن میاں بیوی پر الزام لگایا جا رہا ہے وہ خود کورونا سے متاثر نہیں ہیں۔ چین کے سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ امریکی ایئرفورس کی نجی اہلکار خاتون ماٹجی بناسی ہی کورونا امریکہ سے چین لائی۔
یاد رہے ماٹجی بیناسی کے حوالے سے 59 سالہ امریکی یوٹیوبر جارج ویب نے مارچ کے آخر میں بنا ثبوت کے اپنی ایک ویڈیو میں دعوی کیا کہ کورونا امریکہ کی لیبارٹری میں تیار ہوا اور اسے چین میں پیھلانے کی ذمہ داری ماٹجی اور اس کے شوہر کو سونپ دی گئی۔اس ویڈیو کو 2 کروڑ70 لاکھ سے زائد ویوز مل چکے ہیں۔ جارج ویب کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد امریکی خاتون میٹاجی بناسی کے خلاف الزامات میں مزید اضافہ ہوا اور چین کے متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خاتون اور ان کے شوہر کی تصاویر شائع کرنے سمیت ان کے گھر کا ایڈریس بھی شیئر کیا جانے لگا۔ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلنے کے بعد لوگوں نے میٹاجی بناسی اور ان کے شوہر کو دھمکی آموز پیغامات بھییجنا شروع کیے جس کے بعد دونوں نے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کردیے۔

 اس حوالے سے میٹاجی بناسی نے خود پر لگائے گئے الزامات پر اشکبار ہوتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یہ سب کچھ ایک ڈراؤنے خواب کی طرح دکھ رہا ہے، انہیں یقین ہی نہیں آ رہا کہ کس طرح غلط معلومات کی بنیاد پر ان کی زندگی عذاب میں تبدیل کردی گئی۔میٹاجی بناسی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بھی کورونا کا ٹیسٹ کروایا تھا جو کہ منفی آیا اور ان میں کورونا جیسی علامات کبھی پائی ہی نہیں گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment