پی آئی اے کو پہلی بار امریکہ کیلیے براہ راست پروازوں کی اجازت مل گئی

اسلام آباد: تاریخ میں پہلی بار پاکستان انٹرنیشینل ایئر لائن کو امریکہ کے لیے براہ راست پروان بھرنے کی اجازت مل گئی۔
اس حوالے سے جاری امریکی ٹرانسپورٹیشن ڈپارٹمنٹ کے مراسلے کے مطابق اجازت کا اطلاق 29 اپریل 2020 سے ہوگا اور 28 اپریل 2021 کو اجازت کی مدت ختم ہو جائے گی۔ اس دوران پی آئی اے درجن 2 درجن طرفہ یا یکطرفہ مسافر یا مال بردار پروازیں چلا سکتی ہے۔
پی آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے 11 ستمبر کے حادثے سے قبل پی آئی اے طیارے امریکہ میں براہ راست پروان کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے اس لیے انہیں کہیں نہ کہیں ٹھرنا پڑتا تھا۔ 11 ستمبر کے بعد سیکیورٹی خدشات کی بنا پر امریکہ کی جانب سے براہ راست پروازوں کی اجازت نہ مل سکی۔
مراسلے کے مطابق پی آئی اے پروان بھرنے سے قبل یا پرواز بھرنے کے بعد 5 دنوں کے اندر اندر امریکی ٹرانسپورٹیشن ڈپارٹمنٹ کو مطلع کرنے کی پابند ہو گی۔ اگر پی آئی اے کو پاکستان سے باہر کسی جگہ پرواز بھرنی ہوئی تو 3 دن قبل امریکی ٹرانسپوٹیشن ڈپارٹمنٹ کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ جو طیارہ امریکہ کے لیے اڑان بھرے گا اس کے پاس امریکی ٹرانسپوٹیشن ڈپارٹمنٹ کی مجازی دستاویز ہونا ضروری ہے۔

خیال رہے کہ پی آئی اے نے کبھی بھی براہ راست پاکستان سے امریکا کی پروازیں نہیں چلائیں بلکہ براہ راست پروازوں کی اجازت نہ ہونے کے باعث اس کی پروازیں یورپ یا برطانیہ کے ائیرپورٹس سے سیکیورٹی کلئیرنس حاصل کر کے جاتی تھیں۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment