عالمی وباء کورونا: چین اور امریکہ کی کشیدگی کا نتیجہ کیا ہو گا؟

یوں تو یہ حقیقت سب پر روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دنیا پر یہ وقت بہت بھاری ہے اور چین اور امریکہ کے تعلقات کٹھن دور سے گزر رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار کورونا وائرس کو ‘چائنیز وائرس’ قرار دے رہے ہیں۔ جارحانہ مزاج کے مالک امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو اسے ‘ووہان وائرس’ کہہ کر پکارتے ہیں جس پر بیجنگ میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔

چین میں سوشل میڈیا پر ایسی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں کہ یہ عالمی وبا امریکی فوج کے جراثیم پھیلانے کے جنگی پروگرام کے تحت پھیلائی گئی ہے۔ ان افواہوں پر بہت سے لوگوں نے دھیان دیا تاہم سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس وائرس کی ساخت قطعی طور پر قدرتی ہے۔ لیکن یہ کشمکش صرف لفظوں کی جنگ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے پسِ پردہ اور بہت کچھ چل رہا ہے۔ اطلاعات کے دور کی یہ وہ جنگ ہے جو پس پردہ لڑی جا رہی ہے۔ چین چاہتا ہے کہ اس بحران سے وہ ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرے۔ یقینی طور پر یہ ایک ایسی جنگ ہے جس میں امریکہ اس وقت تک بری طرح ہار رہا ہے۔ یقیناً یہ دنیا کے تمام ملکوں کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچوں کے کڑے امتحان کا دور ہے جو آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ قائدانہ صلاحیت بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔ موجودہ دور کی سیاسی قیادت کو اس کسوٹی پر پرکھا جائے گا کہ وہ اس نازک وقت میں کیا فیصلے کرتی ہے۔کون سی قیادت کتنی فصاحت اور بلاغت کا مظاہرہ کرتی ہے اور ملکی وسائل کتنے مؤثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے اس وبا کا مقابلہ کرتی ہے۔

یہ وبا ایک ایسے وقت میں پھوٹی ہے جب چین اور امریکہ کے تعلقات پہلے ہی سرد مہری کا شکار تھے۔ایک جزوی سے تجارتی معاہدے نے بمشکل دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی کھینچا تانی پر پردہ ڈالا تھا۔ اس وقت دونوں عالمی طاقتیں ایشیائی بحرالکاہل میں ممکنہ جنگ کی پیش بندی کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسلح کر رہی ہیں۔چین کم سے کم علاقائی سطح پر تو خطے کا ایک فوجی سپر طاقت بن گیا ہے مگر چین کی شدید خواہش ہے کہ وہ اپنی حیثیت کو تسلیم کروائے جس کا اس کے خیال میں وہ بین الاقوامی سطح پر حقدار ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا سے چین اور امریکہ کے تعلقات اور زیادہ کشیدہ ہو گئے ہیں۔ اس کشیدگی سے اس بحران کے حل اور اس سے ابھر کر سامنے آنے والی دنیا پر اثر پڑے گا۔ وائرس پر جب قابو پا لیا جائے گا تو چین کی معیشت کا دوبارہ اٹھنا دنیا کی تباہ حال معیشت کو بحال کرنے میں اہم عنصر ثابت ہو گا۔لیکن فی الحال چین کی طبی امداد اس وائرس سے لڑنے میں بہت اہم ہے۔صدر ٹرمپ کے ناقدین کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے خود ہی ہاتھ پاؤں چھوڑ دیے ہیں۔

پریس کی آزادی کی تنظیم ’پین امریکہ‘ کی سربراہ سوزن نوسل نے اپنے جریدے میں لکھا کہ ابتدائی حالتِ انکار اور وبا پر قابو پانے میں بدانتظامی کی وجہ سے داخلی عدم استحکام پیدا ہونے کے خوف سے بیجنگ نے بڑے جارحانہ انداز میں اندرونی اور بیرونی پروپیگنڈہ مہم شروع کر دی۔ اس مہم کا مقصد اس وبا کے عالمی سطح پر پھیپھیلاؤ میں اپنے قصور کو کم کر کے پیش کرنا اور اس کے خلاف سخت ترین اقدامات کو درست قرار دینا تھا۔ اس کے علاوہ اس کا ایک اور مقصد مغرب اور خاص طور امریکہ کے ردعمل کے مقابلے میں اپنی کاوشوں کے موازنے کے طور پر پیش کرنا تھا۔بہت سے مغربی مبصرین کی نظر میں چین زیادہ قوم پرستی اور آمریت کی طرف جا رہا ہے۔ انھیں ڈر ہے کہ یہ نتائج وبا کے عالمی اثرات اور اس کے بعد معاشی سست روی سے اور زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کی عالمی حیثیت پر اس کا اور تباہ کُن اثر پڑ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں