ڈینیئل پرل قتل کیس: والدین نے مقدمے میں فریق بننے کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر دی


 2002 میں کراچی سے اغواء کرکے قتل کیے گئے وال سٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیاء کے بیورو چیف ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں انکے والدین کی جانب سے فریق بننے سے متعلق درخواست پاکستان کی سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔

 درخواست میں ڈینیئل پرل کے والدین رتھ پرل اور جوڈا پرل نے اپنے بیٹے کے قتل سے متعلق تفصیل سے حقائق بیان کرتے ہوئے عدالت کے سامنے اہم قانونی سوالات بھی رکھے ہیں کہ کیسے قتل کے اس مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ نے شواہد کے برعکس بریت کا فیصلہ جاری کیا۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ڈینیئل پرل قتل کیس کے ملزمان کی رہائی کا سندھ ہائی کورٹ کا دو اپریل کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پیغام میں انکی والدہ نے اپنے بیٹے کی جدائی میں رنج کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کوئی ایسا دن نہیں ہوتا کہ جب ہم اپنے بیٹے کو یاد نہ کریں۔ ان کے والد نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو اچھا اور ایماندار بننے کی تربیت دی تھی وہ سچائی اور انصاف کا علمبردار تھا۔ انہوں نے کہا ہمارا ہر لمحہ ہمارے بیٹے کی یاد میں گزرتا ہے۔

خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اس کیس میں مرکزی ملزم احمد عمر شیخ کی پھانسی کی سزا کو ختم کر کے سات سال قید کی سزا برقرار رکھی تھی جبکہ دیگر تین ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلیمان ثاقب کو بری کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ اس سے قبل کراچی کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے احمد عمر شیخ کو پھانسی کی سزا دی تھی جبکہ ملزمان فہد نسیم، شیخ عادل اور سلیمان ثاقب کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.