کورونا ازخود نوٹس کیس: اربوں خرچ ہو گئے،عملی کام کچھ نہیں ہوا،چیف جسٹس برہم


اسلام آباد: چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے کورونا وائرس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے حفاظتی سامان کی خریداری اور راشن کی تقسیم میں شفافیت پر سوال اٹھایا اور وفاق اور صوبوں کی مختلف پالیسوں پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

دوران سماعت سیکرٹری صحت نے قرنطینہ سینیٹرز میں سہولیات کے بارے میں تفصیلات بتائیں تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پورے ملک میں حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ لاہور قرنطینہ سے پیسے لیے بغیر کسی کو جانے نہیں دیا جاتا جو اسپتال جاتا ہے وہ واپس نہیں آ سکتا اسپتال سے لاش وصول کرنے کیلئے بھی پیسے دینے پڑتے ہیں۔ دوران سماعت خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں پر تشدد کا بھی تذکرہ ہوا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سندھ حکومت کہتی ہے 150 فیکٹریوں کو کام کی اجازت دیں گے سمجھ نہیں آتا ایک درخواست پر کیا اجازت دی جائے گی۔ دکانیں کھولنے کیلئے بھی رشوت دینا پڑتی ہے۔ایک صوبائی وزیر کہتا ہے کہ وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ کرا دینگے۔ یعنی صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ ہے۔ پتہ نہیں دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا صوبوں کو ایسے کاروبار روکنے کا کوئی اختیار نہیں جو مرکز کو ٹیکس دیتے ہیں۔ عدالت کسی سیاسی معاملے میں نہیں پڑے گی لیکن جس قیمت پر عوام کو سہولیات مل رہی ہیں وہ بھی دیکھیں گے۔

چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا گندم غائب کرنے والے انسان کہلائے جا سکتے ہیں؟ ابھی کسی کرپٹ بندے کو عدالت بلائیں دیکھیے گا کیسے جھوٹ بولے گا۔ نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن پتہ نہیں کیا کررہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے سے حفاظتی سامان کی خریداری اور تقسیم سے متعلق تفصیلات طلب کی ہیں اور پشاور میں تمام کلینکس کو ایس او پیز کے مطابق کھولنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے وفاقی معاملات پر صوبائی حکومتوں کی مداخلت، زکوۃ اور بیت المال فنڈز میں کرپشن پر وفاقی و صوبائی حکومتوں سے جواب طلب کرلیا ہے۔ کہا آئندہ سماعت پر فیصلہ کریں گے کہ کرپشن کیس نیب کو دینا ہے یا ایف آئی اے کو، جس کے بعد سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی گئی۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.