ایچ ای سی کا الخیر یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کی ڈگریوں کو تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ درست قرار

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے الخیریونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کی ڈگریوں کو ہائیرایجوکیشن کمیشن کی طرف سے تسلیم نہ کرنے کا فیصلہ درست قرار دے دیا گیا۔

ڈگریوں کو تسلیم کرانے کے لیے الخیر یونیورسٹی، الحاق شدہ کالجز اور طالب علموں کی انٹراکورٹ اپیلز کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس غلام عظم قمبرانی پر مشتمل بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ تفصیلی فیصلے میں انٹراکورٹ اپیلیں مسترد اور ایک انٹراکورٹ اپیل نمٹانے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کے پاس اختیار نہیں کہ وہ ریگولیٹر کو طلبا کی ڈگریاں تسلیم کرنے کا حکم جاری کرے۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن ہی پاکستان اور آزاد کشمیر میں اعلی تعلیم کا ریگولیٹر ادارہ ہے۔ ایچ ای سی نے پالیسی بنائی کہ جو طالب علم ٹیسٹ میں50 فیصد نمبر حاصل کریں ان کی ڈگریوں کو تسلیم کیا جائے گا۔ طلبا کو ڈگریوں کو ایچ ای سی سے تسلیم اور تصدیق کرانے کے لیے ٹیسٹ پاس کرنے کی پالیسی پرعمل کرنا ہو گا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ الحاق شدہ کالجز نے طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھیلا، وہ بھی غفلت میں برابر کے شریک ہیں۔

فیصلے میں ایچ ای سی کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سٹوڈنٹس کی ڈگریاں تسلیم نہ کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

فیصلے میں ریمارکس دیے گئے کہ عدالت نے 8 مئی 2012 سے 30 ستمبر 2015 تک ایچ ای سی کے لیٹر کو معطل رکھا۔ ایچ ای سی کے خط پر عدالتی حکم امتناع کے دوران داخلہ حاصل کرنے والوں سےمتعلق پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔ فیصلے سے بہت سے طالب علم متاثر ہوں گے مگر صرف اس بنیاد پر ایچ ای سی کا فیصلہ کاالعدم قرار نہیں دے سکتے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment