کورونا: گوگل اور فیس بک کے اشتہارات کم ہو گئے، یوٹیوب کی آمدن میں بھی کمی متوقع

سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کی وجہ سے دن بدن ڈیجیٹل اشتہارات میں اضافے کے بعد پہلی بار کورونا وائرس کے سبب کمی کر دی گئی ہے۔ جس سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک اور گوگل کی آمدنی میں بھی کمی متوقع ہے۔


اسلام آباد: کورونا کی وبا کے باعث گھروں میں محیط لوگ لاک ڈاؤن کے دوران انٹرنیٹ کا کچھ زیادہ استعمال کر رہے ہیں لیکن اس کے برعکس اشتہار دینے والی کمپنیوں نے معاشی مشکلات کے سبب گوگل اور فیس بک کو اشتہار دینا یا تو ختم کر دیئے ہیں یا پھر ان کی تعداد میں کمی کردی ہے۔

دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر گوگل اور فیس بک مل کر ہی امریکہ کی 70 فیصد ڈیجیٹل مارکیٹ پر راج کرتے ہیں۔ کورونا کے باعث امریکی ڈیجیٹل مارکیٹ یا تو اشتہارات بند کررہی ہے یا بہت کم کر رہی ہے۔

ڈیجیٹل مارکیٹنگ پر نظر رکھنے والے ماہرین کا اس بارے میں کہنا ہے کہ مارکیٹ کی دو بڑی کمپنیوں کی آمدن کم ہونے سے یوٹوبیرز اور بلاگرز کی آمدن میں بھی کمی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے گوگل کے سی ای او سندر پچائی پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ کمپنی 2020 میں کم ملازمتیں دے گی اور اپنے مارکیٹنگ کے بجٹ میں بڑی کٹوتیوں پر بھی غور کر رہی ہے۔

فیس بک نے گزشتہ ماہ کہ دیا تھا کہ اشتہارات کم ہونے کے سبب آمدنی میں کمی ہو چکی ہے تاہم کمپنی کی جانب سے اس کی وجوہات نہیں بتائی جا رہیں۔ موسم گرما میں ہوٹلز، ایئرلائنز اور دنیا میں سیاحتی مقامات کی سیرکروانے والی کمپنیاں اور سیاحت سے منسلک دیگر کاروبار کرنے والے ادارے اپنی ڈیجیٹل مارکیٹنگ کرتے ہیں تاہم اس بار کورونا وائرس کے سبب ان کا سب کچھ بند پڑا ہوا ہے۔

گوگل، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مارکیٹنگ کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے سبب ان کی آمدن کم ہو گئی ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور اشتہارات کے کاروبار میں تین فیصد کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے سبب یوٹیوبرز، وی لاگرز ، بلاگرز اور دیگر سوشل میڈیا پر کام کرنے والوں کی آمدن میں بھی کمی متوقع ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.