آن لائن ٹیکسی سروس ‘اوبر’ نے 3700 ملازمین نکال دیئے


اسلام آباد: اوبر کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اپنے 3700 ملازموں کو برطرف کر رہی ہے جو اس کمپنی کی کل تعداد کے 14 فی صد کے مساوی ہے۔

اوبر کمپنی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا  ہے کہ ملازمتیں ختم کرنے پر ہمیں اس لیے مجبور ہونا پڑا کیونکہ لوگ کورونا انفکشن کے ڈر سے گھروں سے باہر نہیں نکل پا رہے۔ اور جب وہ باہر نکلتے بھی ہیں تو یہ کوشش کرتے ہیں کہ دوسرو ں سے کم ملیں اور کسی اور کی گاڑی میں سفربھی نہ کریں۔

پاکستان سمیت دنیا کے اکثر ملکوں میں اوبرایک ایسی آن لائن کمپنی ہے جو لوگوں کو سفر کی سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ اوبر ٹیکسی سروس عام ٹیسکی سروس کے متبادل سہولت ہے۔ ان کمپنیوں میں گاڑیاں رکھنے والے لوگ اپنا نام رجسڑ کراتے ہیں اور اپنی سہولت کے مطابق سواریاں اٹھا کر ان کو منزل مقصود تک پہنچاتے ہیں۔ کمپنی کی ایپ پر جا کر لوگ گاڑی کا آرڈر دیتے ہیں اور قرب و جوار میں موجود سواری اٹھانے کا خواہش مند گاڑی والا آرڈر قبول کر لیتا ہے۔ اس طرح سواری کو جلد گاڑی مل جاتی ہے اور گاڑی والے کو کچھ اضافی رقم حاصل ہو جاتی ہے۔

کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ نہ صرف گھر سے باہر نکلنے سے اجتناب کر رہے ہیں بلکہ اس وائرس کے خطرے کے پیش نظر ڈرتے ہوئے کسی گاڑی میں بھی نہیں بیٹھتے۔اسی طرح اوبر کے پاس رجسٹرڈ ڈرائیور بھی اپنی گاڑی میں کسی اجنبی کو بیٹھانے سے گریز کر رہے ہیں۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.