سابق وزیر اعظم کو شوگر اسکینڈل تحقیقاتی کمیشن میں پیش ہونے کی اجازت مل گئی


اسلام آباد: ایف آئی اے( فیڈرل انوسٹیگیشن اتھارٹی) نے شوگراسکینڈل کے تحقیقاتی کمشن میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو پیش ہونے کی اجازت دے دی۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی آے نے بذریعہ خط مسلم لیگ ن کے رہنماء شاہد خاقان عباسی کو آگاہ کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ شاہد خاقان عباسی اور خرم دستگیر 9 مئی کو ایف آئی اے ہیڈ کواٹراسلام آباد آ سکتے ہیں۔

اس حوالے سے شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کرپشن اور مس گورننس کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ہم چینی بحران میں کرپشن اور مس گورننس سے متعلق کمیشن کو معلومات فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان کمشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے سکیشن 9 کے تحت ہر شہری زیرتحقیق معاملے میں معلومات فراہم کرسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا قانون کے تحت کوئی بھی شہری زیر تحقیق معاملے سے متعلق شواہد ودستاویزات فراہم کرنے کا حق رکھتا ہے۔ قانون کے تحت انکوائری کمشن شہری کی فراہم کردہ معلومات اور شواہد کو زیرغور لانے کا مجاز ہے۔

یاد رہے شاہد خاقان عباسی نے 23 اپریل کوچئیرمین انکوائری کمشن واجد ضیاءکو پیش ہونے کے لئے خط لکھا تھا۔ پہلے خط کے جواب میں کمیشن نے لیگی رہنماوں کو ذاتی طور پر پیش ہونے کے بجائے صرف دستاویزاتی ثبوت ارسال کرنے کوکہا۔ شاہد خاقان عباسی نے کمیشن کو دوبارہ خط لکھ کر ذاتی طور پر پیش ہونے پر اسرار کیا۔ دوسرے خط کے جواب میں کمیشن نے شاہد خاقان عباسی اور خرم دستگیر کو پیش ہونے کی اجازت دی۔

خیال رہے چینی بحران کی ابتدائی رپورٹ میں وزیراعظم کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کو بھی ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔حکومت نے چینی بحران کی فرانزک تحقیقات کے لئے واجد ضیاء کی سربراہی میں اعلی سطحی کمیشن تشکیل دیا تھا۔اعلی سطحی کمیشن کو 25 اپریل کو جامع رپورٹ پیش کرنے کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ شوگر بحران کی فرانزک رپورٹ 25 اپریل کو پیش کرنے کے بجائے کمیشن نے وفاقی حکومت سے تین ہفتے کا مزید وقت لے رکھا ہے۔


Leave A Reply

Your email address will not be published.