بورڈز امتحانات میں شامل پرائیویٹ سٹوڈنٹس کے لیے بری خبر

اسلام آباد: وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے تعلیمی بورڈز کے پرائیویٹ سٹوڈنٹس کو پروموٹ نہ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم نے بورڈز سے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سٹوڈنٹس کا ڈیٹا حاصل کر لیا ہے۔ملک بھر کے 29 تعلیمی بورڈز اور تین ٹینیکل بورڈز میں تقریبا 40لاکھ طالب علموں نے داخلے بھجوائے۔ مجموعی طور پر 30-35فیصد پرائیویٹ امیدوار،سپلی،اکٹھے امتحانات اور بہتر نمبروں کے لیے امتحانات دینے والے سٹوڈنٹس ڈیٹا میں شامل ہیں۔ ہر بورڈ کا گزشتہ تین سالوں کے نتائج کا جائزہ لیا جائے گا اورنمبروں کے تناسب کے حساب سے امیدواروں کو پروموٹ کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے دسویں اور بارہویں کے امیدواروں کو4 سے 6 فیصد اضافی مارکس دینے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

علاوہ ازیں وزارت تعلیم نے 11مئی کو اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ جس میں ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینوں کو ویڈیو لنک پر اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔ اجلاس میں نویں اور گیارہویں کے طلباء کے امتحانات لینے کے بارے میں بھی غور کیا جائے گا۔

یاد رہے کیمبرج نے بھی پرائیویٹ طلباء کو پروموٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں